یہ عذاب سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا جب کوئی گناہ معاشرے میں پھیل جاتا ہے، اور اس گناہ
سے کوئی روکنے والا بھی نہیں ہوتا تو اس وقت جب اللہ تعالی کا کوئی عذاب آتا ہے تو عذاب یہ نہیں دیکھتا کہ کس نے اس گناہ کا ارتکاب کیا تھا، اور کسی نے نہیں کیا تھا۔ بلکہ وہ عذاب عام ہوتا ہے تمام لوگ اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ چنانچہ
قرآن کریم کا ارشاد ہے : والقوايئة لاتينيين الديت تتموا منكم خاصة
(سورة الانفال :٢٥) یعنی اس عذاب سے ڈرو، جو صرف ظالموں ہی کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گا، بلکہ جو لوگ علم سے علیحدہ تھے۔ وہ بھی اس عذاب میں پکڑے جائیں گے، اس لئے کہ اگر چہ یہ لوگ خود تو ظالم نہیں تھے۔ لیکن کبھی ظالم کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش نہیں کی۔ کبھی ظلم کو مٹانے کی جدوجہد نہیں کی، اس ظلم کے خلاف ان کی پیشانی پر بل نہیں آیا، اس لئے گویا کہ وہ بھی اس ظلم میں ان کے ساتھ شامل تھے۔ لہذا یہ کہنا کہ ہم تو بڑی امانت اور دیانت کے ساتھ تجارت کر رہے تھے، اس کے باوجود ہمارے ہاں چوری ہو گئی۔ اور ڈاکہ پڑ گیا، اتنی بات کہہ دینا کافی نہیں۔ اس لئے کہ اس امانت اور دیانت کو دوسروں تک پہنچانے کا کام تم نے انجام نہیں دیا، اس کو چھوڑ دیا۔ اس لئے اس عذاب میں تم بھی گرفتار ہو گئے۔
2026-07-22 06:22:29
0
To see more videos from user @anaya...skater, please go to the Tikwm
homepage.