@deen_with_zee: عفیف کندی کہتے ہیں: میں حج کے لیے مکہ آیا اور حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ کے پاس تجارت کے سلسلے میں ٹھہرا۔ میں ان کے ساتھ تھا کہ ایک شخص خیمے سے نکلا، سورج کی طرف دیکھا، پھر جب سورج ڈھل گیا تو نماز کے لیے کھڑا ہوگیا۔ پھر ایک عورت نکلی اور اس کے پیچھے کھڑی ہوگئی، پھر ایک نوجوان آیا اور اس کے دائیں طرف کھڑا ہوگیا۔ میں نے حضرت عباسؓ سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا: یہ میرے بھتیجے محمد بن عبداللہ ﷺ ہیں۔ یہ ان کی اہلیہ خدیجہ بنت خویلدؓ ہیں۔ یہ ان کے چچا زاد علی بن ابی طالبؓ ہیں۔ پھر فرمایا: "یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ نے انہیں نبی بنا کر بھیجا ہے، اور ابھی تک ان کی پیروی صرف ان کی بیوی اور یہ نوجوان کر رہے ہیں۔ اور یہ بھی کہتے ہیں کہ قیصر (روم) اور کسریٰ (فارس) کے خزانے ان کے لیے فتح کیے جائیں گے۔" عفیفؓ بعد میں مسلمان ہوئے اور فرمایا: "اگر اللہ مجھے اسی دن اسلام کی توفیق دے دیتا تو میں علیؓ کے ساتھ تیسرا مسلمان ہوتا۔" حوالہ: مسند احمد، حدیث 1787 (بعض طبعات میں 1786 کے نمبر سے بھی ملتی ہے)۔ #islamicreminder #engineermuhammadalimirza #fypviralシ #dontunderreviewmyvideo #growmyaccount