Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@66creed_: ⏳#messi #messiedit #lamineyamal #worldcup2026 #edit
𝟔𝟔creeᴅ
Open In TikTok:
Region: PE
Sunday 19 July 2026 10:36:37 GMT
14454
921
143
433
Music
Download
No Watermark .mp4 (
0.78MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
2.15MB
)
Watermark .mp4 (
0MB
)
Music .mp3
Comments
زهرة الجنة :
3-2 for Spain 🤖🤖 And remember my words 😳😳😳😳😳😳😳
2026-07-19 10:48:47
5
𝐙𝐀𝐘𝐍𝐄ᵖᵉᵃᵏ :
peakness level ♾️
2026-07-19 11:59:08
1
𝐌𝐗𝐙𝐈𝐓👹 :
TUFF🔥🔥EDIT🔥🔥
2026-07-19 15:35:40
1
Adrian :
gano españaaaaa
2026-07-19 22:05:31
5
Gabrīɛl 香織 🧃 :
argentina perdio
2026-07-19 22:06:42
2
lian :
vengo del futuro 1-0
2026-07-19 22:05:13
0
noshe :
1-0
2026-07-19 21:46:41
0
LMPS :
3-2 gana argentina
2026-07-19 18:28:43
4
𝐒𝐩𝐢𝐝𝐞𝐫🎈 :
peak
2026-07-19 11:40:21
1
To see more videos from user @66creed_, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
#fyppppppppppppppppppppppp #foryoupage #growmyaccount #1milion #waqas_kutwaal #ai #1million #1millionaudition
Aseda se no played by UCC AFCCB at the 4th inter halls drill display #ucc @Indece Hall Regi. Band🎺💯 @TheSoundbyte @K. Kay @AB_Grafix @Okyito_Horns❤️🔥🎺 @Kweeeesi🍁 @Kweku_Darko @Qweci_Jeff @Sugar Rich💦🎺🍩 #fypシ゚ #ucccentralband #fyp #parade #trends #eswatinitiktok🇸🇿
ایک جنگی ٹیکس، چار ذہین طالب علم اور پاکستان کا پہلا نوبل انعام! دوسری جنگِ عظیم کے دوران پنجاب حکومت نے عوام پر وار ٹیکس عائد کردیا تھا۔ یہ ٹیکس پنجاب کے عوام سے وصول کیا جاتا، پھر یہ رقم انگریز سرکار کے حوالے کردی جاتی، اور انگریز حکومت اسے فوجوں کی نقل و حمل پر خرچ کرتی تھی۔ 1945ء میں دوسری جنگِ عظیم ختم ہوئی تو اس کے ساتھ ہی وار ٹیکس بھی ختم ہوگیا، لیکن حکومت کے کھاتے میں چند لاکھ روپے باقی رہ گئے۔ اُس وقت ملک خضر حیات ٹوانہ پنجاب کے وزیرِاعلیٰ تھے۔ ملک خضر حیات ٹوانہ کے پاس دو راستے تھے: یا تو یہ رقم انگریز سرکار کے حوالے کردی جاتی، یا اسے پنجاب کے کسی دوسرے سرکاری فنڈ میں جمع کرا دیا جاتا۔ لیکن ملک خضر حیات ٹوانہ کے ذہن میں اس رقم کے استعمال کا ایک نہایت دلچسپ خیال آیا۔ انہوں نے اعلان کیا: “ہم پنجاب کے چار ذہین ترین طالب علموں کو اس رقم سے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجیں گے۔” پنجاب سے چار طالب علم منتخب کیے گئے اور انہیں وار فنڈ کی رقم سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے لندن بھیج دیا گیا۔ ان طالب علموں میں ایک ایسا نوجوان بھی شامل تھا جس کے والد جھنگ میں محکمۂ تعلیم کے ایک چھوٹے درجے کے افسر تھے۔ یہ نوجوان بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کا خواب تک نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس طالب علم نے 1940ء میں میٹرک کا امتحان ریکارڈ نمبروں سے پاس کیا اور 1946ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پنجاب حکومت کے اخراجات پر یہ نوجوان لندن چلا گیا۔ اور پھر یہی طالب علم 1979ء میں طبیعیات کا نوبل انعام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ پاکستان کا واحد نوبل انعام یافتہ سائنس دان تھا۔ اس طالب علم کا نام تھا: ڈاکٹر عبدالسلام ڈاکٹر عبدالسلام بعد ازاں اٹلی منتقل ہوگئے اور انہوں نے اپنی زندگی میں سائنس کے ہزاروں طالب علموں کی رہنمائی کی۔ ہمارے ملک میں آج تک تین حقیقی اور غیرمعمولی سائنس دان پیدا ہوئے: ڈاکٹر عبدالسلام، ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی، اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان۔ ہم نے ان تینوں سائنس دانوں کے ساتھ تاریخی سلوک کیا۔ ہم نے ڈاکٹر عبدالسلام کو قادیانی قرار دے کر ملک بدر کردیا۔ وہ جیسے ہی کراچی ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے، تیرہ ترقی یافتہ ممالک نے انہیں شہریت دینے کی پیش کش کردی۔ وہ اٹلی چلے گئے۔ اٹلی نے ان کے نام سے ایک جدید ترین تجربہ گاہ قائم کی، اور آج یہ تجربہ گاہ ہر سال چالیس سے پچاس بڑے سائنس دان تیار کررہی ہے۔ ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی نے بلڈ پریشر کی دوا ایجاد کی۔ جرمنی نے ان کی خدمات کا اعتراف کیا، لیکن ہم ان کا نام تک بھول گئے۔ پیچھے رہ گئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان۔ ڈاکٹر صاحب نے تیسری دنیا کے ایک انتہائی پسماندہ ملک کو جوہری طاقت بنایا۔ اور ہم نے ان کے ساتھ کیا کیا؟ اصل سانحہ یہ نہیں کہ ہم نے چند سائنس دانوں کے ساتھ غلط سلوک کیا۔ اصل سانحہ یہ ہے کہ ہم آج بھی ہزاروں ذہین بچوں کے ساتھ وہی سلوک کررہے ہیں۔ وہ بچہ جو زیادہ سوال کرتا ہے، اسے بدتمیز کہہ دیا جاتا ہے۔ جو نئی سوچ سامنے لاتا ہے، اسے اوور اسمارٹ قرار دے دیا جاتا ہے۔ جو نظام سے ہٹ کر سوچتا ہے، اسے ناکارہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ اور پھر چند سال بعد ہم کہتے ہیں: “پاکستان میں ٹیلنٹ نہیں ہے!” نہیں جناب! پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ پاکستان میں ٹیلنٹ کو پہچاننے والوں کی کمی ہے۔ **“ہر بچے میں عبدالقدیر چھپا ہے، بس اسے پہچاننے والی آنکھ چاہیے۔”**
#attock today weather rain#unfreezemyaccount #foryouvideo #pleaseviralthisvideo🙏🙏please #100kviews✔️ @⚜️ ATTOCK ⚜️ @اٹک 🍁🍂
বিদায় প্রিয় লিজেন্ড👏🙏🥺 #messi10 #argentina #bangladesh🇧🇩 #fypシ゚viral #foryoupage @TikTok @TikTok Bangladesh @FIFA World Cup
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy