@sajid__ali221: ایک وقت تھا جب گاؤں کے سب لوگ بس پر بیٹھ کر راولپنڈی جایا کرتے تھے سڑک پر چلتی بس جب اپنا مخصوص ہرن بجاتی تو گھروں میں یہ پتا چلتا کے پہلا ٹائم گزر رہا ہے کسی کو اپنے ہاں مہمان انے کی اطلاح ہوتی اور کسی کو اپنے گھر بیٹھے مہمان کو روانہ کرنے کی فکر ہوتی اور پھر وقت بدل گیا روڈ بدل گے لوگ بدل گئے محبتیں بدل گی بسیں بدل گہیں کچے مکان ختم ہو گے درخت کٹ گے چڑیاں اڑ گیئی گاؤں کے لوگ شہروں میں آباد ہو گے ایک دوسرے کی پروہ ختم ہو گہیں اور یوں ایک حسین زمانے کا اختتام ہو گیا اس بس کے استاد خوشی محمّد عرف خوشیا تھے۔۔۔😭😭😭