رسول اللہ ﷺ جب منبر پر تشریف لاتے تو آپ کا خطبہ اللہ کی حمد و ثنا، تقویٰ کی تلقین، قرآنِ کریم کی تلاوت، آخرت کی یاد، نیکی کی ترغیب اور برائی سے روکنے پر مشتمل ہوتا تھا۔ حضرت جابر بن سمرہؓ فرماتے ہیں: "رسول اللہ ﷺ کا خطبہ درمیانہ ہوتا تھا، آپ اس میں قرآن کی آیات پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت فرماتے تھے۔" (صحیح مسلم: 866)
اور حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ خطبہ دیتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں، آواز بلند ہو جاتی اور ایسا محسوس ہوتا جیسے آپ کسی لشکر کو خبردار کر رہے ہوں۔ (صحیح مسلم: 867)
لہٰذا منبرِ رسول ﷺ قرآن و سنت کی تعلیم، نصیحت، تقویٰ اور آخرت کی یاد دلانے کی جگہ ہے، نہ کہ بے بنیاد، من گھڑت اور غیر ثابت شدہ کہانیوں، لطیفوں، طنز و مزاح یا محض لوگوں کو ہنسانے کے لیے گفتگو کرنے کی جگہ۔ جو بات قرآن و سنت سے ثابت نہ ہو، اسے دین کے نام پر منبر سے بیان کرنا درست نہیں۔ ہر خطیب کو چاہیے کہ وہ اپنی گفتگو کو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق رکھے اور ایسی باتیں بیان کرے جو قرآن و سنت سے ثابت ہوں۔
2026-07-21 14:57:50
4
Malik mubasir :
مفتی صاحب آپ بھی نا 😂
2026-07-21 06:54:38
3
Dr. Hassan :
mufti shab ka koi jor ni
2026-07-22 18:20:30
0
Sαϝԃαɾ Tαʅԋα Hαɱȥα :
hahahahhahhaha
2026-07-20 03:51:04
7
Naseem Ahmed Raza :
Allah hum sub ko hidayat de, Ameen
2026-07-21 15:47:52
2
Nain tara :
Mufti sahaab ap k liye yehi kaam suitable tha kiun chor diya
2026-07-20 14:38:11
4
kILLERKHAN6262 :
Toba
2026-07-20 04:11:28
2
غلام مصطفیٰ :
kiya acha condoktir acha ha
2026-07-21 01:29:10
1
# z a i n 🙂 :
Sohrab ghot KO gumma ke Kaha keh mujhe lga keh Raha hai Sialkot 😂😂
2026-07-22 20:04:46
0
Docs :
Kya bnda h bhai ye
2026-07-22 20:04:27
0
To see more videos from user @tariq_masood48, please go to the Tikwm
homepage.