@decornhabepxuanhoang: Bình hoa cao cấp #bátancom #decornhabepxuanhoang #binhuongnuoc #Trending

Decor - nhà bếp Xuân Hoàng
Decor - nhà bếp Xuân Hoàng
Open In TikTok:
Region: VN
Monday 20 July 2026 05:16:10 GMT
131
1
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @decornhabepxuanhoang, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

سلطان الپ ارسلان کا دلچسپ تاریخی واقعہ – معرکۂ ملازگرد (1071ء) سلطان الپ ارسلان عظیم سلجوقی سلطنت کے بہادر اور عادل حکمران تھے۔ ان کی زندگی کا سب سے مشہور اور دلچسپ واقعہ معرکۂ ملازگرد ہے، جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ 1071ء میں بازنطینی شہنشاہ رومانوس چہارم ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ سلجوقیوں پر حملہ آور ہوا۔ اس کا مقصد مسلمانوں کو اناطولیہ سے نکالنا اور سلجوقی سلطنت کو ختم کرنا تھا۔ سلطان الپ ارسلان کے پاس نسبتاً کم فوج تھی، لیکن انہوں نے اللہ پر بھروسہ کیا اور اپنے سپاہیوں کا حوصلہ بلند کیا۔ جنگ سے پہلے سلطان نے سفید لباس پہنا۔ انہوں نے اپنے سپاہیوں سے فرمایا کہ اگر میں آج شہید ہو جاؤں تو یہی لباس میرا کفن ہوگا۔ پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے فتح کی دعا کی اور پوری فوج کے ساتھ میدانِ جنگ میں اتر گئے۔ سلجوقی فوج نے اپنی مشہور جنگی حکمتِ عملی جھوٹا پسپا ہونا (Feigned Retreat) اختیار کی۔ وہ پیچھے ہٹتے دکھائی دیے، جس سے بازنطینی فوج آگے بڑھ گئی۔ پھر اچانک سلجوقی گھڑسواروں نے چاروں طرف سے حملہ کر دیا۔ دشمن کی صفیں بکھر گئیں اور بازنطینی لشکر کو سخت شکست ہوئی۔ اس جنگ کا سب سے حیران کن لمحہ وہ تھا جب بازنطینی شہنشاہ رومانوس چہارم خود قیدی بنا کر سلطان الپ ارسلان کے سامنے لایا گیا۔ سلطان نے اس کے ساتھ انتقام لینے کے بجائے عزت اور رحم کا برتاؤ کیا۔ انہوں نے اسے قتل نہیں کیا بلکہ معاہدے کے بعد رہا کر دیا۔ یہی سلطان کی عظمت اور انصاف کی مثال سمجھی جاتی ہے۔ معرکۂ ملازگرد کے بعد اناطولیہ میں مسلمانوں کا اثر بہت بڑھ گیا اور یہی فتح بعد میں سلطنتِ عثمانیہ کے قیام کی راہ ہموار کرنے والے اہم واقعات میں شمار کی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے سلطان الپ ارسلان کو اسلامی تاریخ کے عظیم ترین فاتحین میں شمار کیا جاتا ہے۔
سلطان الپ ارسلان کا دلچسپ تاریخی واقعہ – معرکۂ ملازگرد (1071ء) سلطان الپ ارسلان عظیم سلجوقی سلطنت کے بہادر اور عادل حکمران تھے۔ ان کی زندگی کا سب سے مشہور اور دلچسپ واقعہ معرکۂ ملازگرد ہے، جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ 1071ء میں بازنطینی شہنشاہ رومانوس چہارم ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ سلجوقیوں پر حملہ آور ہوا۔ اس کا مقصد مسلمانوں کو اناطولیہ سے نکالنا اور سلجوقی سلطنت کو ختم کرنا تھا۔ سلطان الپ ارسلان کے پاس نسبتاً کم فوج تھی، لیکن انہوں نے اللہ پر بھروسہ کیا اور اپنے سپاہیوں کا حوصلہ بلند کیا۔ جنگ سے پہلے سلطان نے سفید لباس پہنا۔ انہوں نے اپنے سپاہیوں سے فرمایا کہ اگر میں آج شہید ہو جاؤں تو یہی لباس میرا کفن ہوگا۔ پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے فتح کی دعا کی اور پوری فوج کے ساتھ میدانِ جنگ میں اتر گئے۔ سلجوقی فوج نے اپنی مشہور جنگی حکمتِ عملی جھوٹا پسپا ہونا (Feigned Retreat) اختیار کی۔ وہ پیچھے ہٹتے دکھائی دیے، جس سے بازنطینی فوج آگے بڑھ گئی۔ پھر اچانک سلجوقی گھڑسواروں نے چاروں طرف سے حملہ کر دیا۔ دشمن کی صفیں بکھر گئیں اور بازنطینی لشکر کو سخت شکست ہوئی۔ اس جنگ کا سب سے حیران کن لمحہ وہ تھا جب بازنطینی شہنشاہ رومانوس چہارم خود قیدی بنا کر سلطان الپ ارسلان کے سامنے لایا گیا۔ سلطان نے اس کے ساتھ انتقام لینے کے بجائے عزت اور رحم کا برتاؤ کیا۔ انہوں نے اسے قتل نہیں کیا بلکہ معاہدے کے بعد رہا کر دیا۔ یہی سلطان کی عظمت اور انصاف کی مثال سمجھی جاتی ہے۔ معرکۂ ملازگرد کے بعد اناطولیہ میں مسلمانوں کا اثر بہت بڑھ گیا اور یہی فتح بعد میں سلطنتِ عثمانیہ کے قیام کی راہ ہموار کرنے والے اہم واقعات میں شمار کی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے سلطان الپ ارسلان کو اسلامی تاریخ کے عظیم ترین فاتحین میں شمار کیا جاتا ہے۔

About