@hanii_writes.47: دشتِ وحشت میں سرابوں کی اذیت کے سِوا، اِک محبت تھی مرے پاس، رہی وہ بھی نہیں۔ زندگی کے بیابان میں نے ہر طرف سکون ڈھونڈا، ہر سراب کے پیچھے بھاگی۔ مگر ہر بار ہاتھ خالی رہی۔ سوچا تھا چلو کم از کم ایک محبت تو ہے جو میری ہے۔ مگر وہ بھی وقت کے ساتھ دھند کی طرح چھٹ گئی۔ اب نہ کوئی امید ہے، نہ کوئی سہارا۔ بس تنہائی ہے، اذیت ہے، اور ایک ٹوٹا ہوا دل ہے جو اب کسی سے کچھ نہیں مانگتا۔ میں نے سمجھا تھا کہ شایئد یہ صحرا بھی کبھی بہار دیکھے گا۔ ایک محبت تھی جو اس ویرانی میں چراغ لگتی تھی۔ مگر وہ چراغ بھی ہوا کے ایک جھونکے سے بجھ گیا۔ اب چاروں طرف اندھیرا ہے۔ نہ منزل، نہ مسافر، نہ کوئی اپنا۔ ۔ ۔ ۔ #fyp #viralvedio #foruoupage #urdupoetry #nature