@mibah14: یہ مسجد 1908ء (1326 ہجری) میں سلطنت عثمانیہ کے دور میں مکمل ہوئی۔اسے عثمانی سلطان عبدالحمید دوم کے حکم پر تعمیر کیا گیا تھا۔حجاز ریلوے کا حصہیہ مسجد صرف ایک عبادت گاہ نہیں تھی، بلکہ یہ عثمانی دور کے سب سے بڑے منصوبے حجاز ریلوے (Hejaz Railway) کا حصہ تھی۔یہ ریلوے لائن دمشق سے مدینہ منورہ تک حاجیوں اور مسافروں کی سہولت کے لیے بنائی گئی تھی، اور یہ مسجد مدینہ منورہ کے آخری ریلوے اسٹیشن کے بالکل قریب تعمیر کی گئی تاکہ مسافر وہاں نماز ادا کر سکیں۔ اب یہ ریلوے اسٹیشن ایک میوزیم میں تبدیل ہو چکا ہے۔مسجد کا نام اس علاقے میں موجود تاریخی العنبرية دروازے (Anbariya Gate) کی وجہ سے رکھا گیا، جو کسی دور میں مدینہ منورہ کا ایک اہم داخلہ راستہ تھا: یہ مسجد روایتی عثمانی طرزِ تعمیر کا ایک شاندار شاہکار ہے۔اس مسجد کے دو خوبصورت اور پتلے منار ہیں اور اس پر عثمانی ساخت کے گنبد بنے ہوئے ہیں اس کی بیرونی دیواروں کی تعمیر میں مدینہ منورہ کے مخصوص سیاہ بیسالٹ پتھروں (Basalt Stones) کا استعمال کیا گیا ہے جو اسے ایک منفرد اور پروقار شکل دیتے ہیں۔اس تاریخی مسجد میں روایتی طور پر منبر (Pulpit) نہیں بنایا گیا تھا، اسی لیے یہاں جمعہ کا خطبہ اور جمعہ کی نماز قائم نہیں کی جاتی، بلکہ صرف پانچ وقت کی فرض نمازیں ادا کی جاتی ہیں۔ آج بھی یہ مسجد اپنے قدیم عثمانی حسن کے ساتھ محفوظ ہے اور زائرین کے لیے ایک اہم تاریخی مرکز ہے۔