پوری طرح سے کھو کے شَرَم چومتے رہے
ہم لوگ مہ جبینوں کے غم چومتے رہے
اس کو تھا بولنے کا ہنر بولتی رہی
ہم چومنے میں طاق تھے، ہم چومتے رہے
پی لی شراب ناف کٹوری میں بھر کے اور
اس کی کمر کے سارے ہی خَم چومتے رہے
لشکر بدن پہ ہونٹ عَلَم بن کے تھے کھڑے
لشکر کو چھوڑا اور عَلَم چومتے رہے
ماتھے سے ناف تک کی مسافت تھی راہ میں
ہونٹوں کے لے کے چھوٹے قدم چومتے رہے
چاہتا تھا شیخ بوسوں کے فرقے کو چھوڑ دیں
ہم نے بچایا اپنا دھرم ، چومتے رہے
انجان بن کے ایسے نہ پوچھو کہ کیا کیا
کچھ نئیں کیا ، خدا کی قسم ، چومتے رہے
بوسوں کا سن کے یار کی ساری سہیلیاں
بولیں حضور اتنا کرم ! چومتے رہے ؟
وہ تھک نہیں رہی تھی مگر تھک گئے تھے ہم
رکھنے کو یار اپنا بھرم ، چومتے رہے
سب جانتے ہیں حضرَتِ ثاقب شریف ہیں
بس شب کو ہو کے تھوڑا گَرَم چومتے رہے
🥰🥰🥰🥰
2026-07-21 09:12:36
0
To see more videos from user @subhan.jvd, please go to the Tikwm
homepage.