@tibibeeturntoys: POV: You launch this RC jet & it *actually* flies 🛩️🔥 Stunt rotation + summer camp ready? YES. #KidsRC #FlyingToy #SummerGift #TikTokMadeMeBuyIt

tibibeeturntoys
tibibeeturntoys
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 21 July 2026 00:04:08 GMT
70
1
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @tibibeeturntoys, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

قلعہ ڈیراور کے چالیس عظیم الشان برج — صحرا میں ایستادہ طاقت اور شان کی علامت روہی چولستان کے وسیع و خاموش صحرا میں جب دور سے قلعہ ڈیراور نظر آتا ہے تو سب سے پہلے اس کے چالیس عظیم الشان برج نگاہوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہی برج اس قلعے کی سب سے پہچانی جانے والی اور شاندار خصوصیت ہیں، جو میلوں دور سے اس تاریخی قلعے کی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔ ⚔️ ایک ناقابلِ تسخیر دفاعی نظام قدیم ادوار میں یہ برج قلعے کے مضبوط دفاعی حصے تھے۔ ان کی بلند قامت ساخت اور مضبوط بناوٹ دشمن کے لیے قلعے تک رسائی کو نہایت دشوار بنا دیتی تھی۔ ان برجوں پر پہرہ دار نگرانی کرتے اور دور سے آنے والی نقل و حرکت پر نظر رکھتے تھے۔ 📐 تعمیراتی عظمت قلعہ ڈیراور چوکور طرز پر تعمیر کیا گیا، جس کی بیرونی فصیل تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے طواف پر مشتمل ہے۔ · کل چالیس برج تعمیر کیے گئے۔ · ہر جانب دس برج موجود ہیں۔ · برجوں کی بلندی تقریباً تیس میٹر تک پہنچتی ہے۔ · بیرونی سطح پر نفیس نقش و نگار اس کی خوبصورتی بڑھاتے ہیں۔ یہ انداز اس بات کا ثبوت ہے کہ قدیم معماروں نے دفاع اور حسن دونوں کو یکجا کیا تھا۔ 🏛️ ثقافتی وقار اور تحفظ یہ قلعہ برصغیر کے نمایاں تاریخی قلعوں میں شمار ہوتا ہے اور عالمی توجہ حاصل کر چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس کے بعض حصوں کی مرمت اور بحالی کے اقدامات بھی کیے گئے تاکہ یہ عظیم ورثہ آئندہ نسلوں تک محفوظ رہ سکے۔ صحرا کی تنہائی میں کھڑے یہ برج آج بھی خاموشی سے ماضی کی بہادری، اقتدار اور فن تعمیر کی داستان سناتے ہیں۔ 📍 مقام: قلعہ ڈیراور، روہی چولستان، بہاولپور ⏳ دور: قدیم و عباسی عہد 🏰 خصوصیت: چالیس بلند برج، مضبوط فصیل، صحرائی دفاعی قلعہ 🧱 معماری: حسن اور دفاع کا حسین امتزاج 📚 حوالہ نوٹ: قلعہ ڈیراور جنوبی پنجاب کی نمایاں تاریخی یادگاروں میں شامل ہے۔ #DerawarFort #CholistanDesert #HistoricFort #Bahawalpur #PakistanHeritageInfo ⚠️ اہم نوٹ: یہ تحریر پاکستان کے تاریخی ورثے کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یہاں بیان کردہ معلومات کا مقصد صرف آگاہی اور تاریخ سے جُڑاؤ پیدا کرنا ہے، نہ کہ کسی خاص عقیدے یا سوچ کی نمائندگی کرنا۔ ہر قاری اپنی رائے اور عقیدے میں آزاد ہے
قلعہ ڈیراور کے چالیس عظیم الشان برج — صحرا میں ایستادہ طاقت اور شان کی علامت روہی چولستان کے وسیع و خاموش صحرا میں جب دور سے قلعہ ڈیراور نظر آتا ہے تو سب سے پہلے اس کے چالیس عظیم الشان برج نگاہوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہی برج اس قلعے کی سب سے پہچانی جانے والی اور شاندار خصوصیت ہیں، جو میلوں دور سے اس تاریخی قلعے کی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔ ⚔️ ایک ناقابلِ تسخیر دفاعی نظام قدیم ادوار میں یہ برج قلعے کے مضبوط دفاعی حصے تھے۔ ان کی بلند قامت ساخت اور مضبوط بناوٹ دشمن کے لیے قلعے تک رسائی کو نہایت دشوار بنا دیتی تھی۔ ان برجوں پر پہرہ دار نگرانی کرتے اور دور سے آنے والی نقل و حرکت پر نظر رکھتے تھے۔ 📐 تعمیراتی عظمت قلعہ ڈیراور چوکور طرز پر تعمیر کیا گیا، جس کی بیرونی فصیل تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے طواف پر مشتمل ہے۔ · کل چالیس برج تعمیر کیے گئے۔ · ہر جانب دس برج موجود ہیں۔ · برجوں کی بلندی تقریباً تیس میٹر تک پہنچتی ہے۔ · بیرونی سطح پر نفیس نقش و نگار اس کی خوبصورتی بڑھاتے ہیں۔ یہ انداز اس بات کا ثبوت ہے کہ قدیم معماروں نے دفاع اور حسن دونوں کو یکجا کیا تھا۔ 🏛️ ثقافتی وقار اور تحفظ یہ قلعہ برصغیر کے نمایاں تاریخی قلعوں میں شمار ہوتا ہے اور عالمی توجہ حاصل کر چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس کے بعض حصوں کی مرمت اور بحالی کے اقدامات بھی کیے گئے تاکہ یہ عظیم ورثہ آئندہ نسلوں تک محفوظ رہ سکے۔ صحرا کی تنہائی میں کھڑے یہ برج آج بھی خاموشی سے ماضی کی بہادری، اقتدار اور فن تعمیر کی داستان سناتے ہیں۔ 📍 مقام: قلعہ ڈیراور، روہی چولستان، بہاولپور ⏳ دور: قدیم و عباسی عہد 🏰 خصوصیت: چالیس بلند برج، مضبوط فصیل، صحرائی دفاعی قلعہ 🧱 معماری: حسن اور دفاع کا حسین امتزاج 📚 حوالہ نوٹ: قلعہ ڈیراور جنوبی پنجاب کی نمایاں تاریخی یادگاروں میں شامل ہے۔ #DerawarFort #CholistanDesert #HistoricFort #Bahawalpur #PakistanHeritageInfo ⚠️ اہم نوٹ: یہ تحریر پاکستان کے تاریخی ورثے کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یہاں بیان کردہ معلومات کا مقصد صرف آگاہی اور تاریخ سے جُڑاؤ پیدا کرنا ہے، نہ کہ کسی خاص عقیدے یا سوچ کی نمائندگی کرنا۔ ہر قاری اپنی رائے اور عقیدے میں آزاد ہے

About