@chuyencongnhan2812: Không ai sống dễ dàng hơn ai trong cuộc sống này hết #chuyencongnhan #vieclambacninh #vieclambacninhbacgiang #vieclamtot

Chuyện công nhân
Chuyện công nhân
Open In TikTok:
Region: VN
Tuesday 21 July 2026 02:28:53 GMT
2648
75
3
9

Music

Download

Comments

lmtrnhngc40
lmtrnhngc4 :
chuẩn không cần phải chỉnh
2026-08-13 23:44:51
0
hieuhaiphongalhp
🐲☞✰✰Hĭếυ✰✰Hảĭ✰✰Pɦòηɠ༉✰✰☜ :
Chưa tròn đạo hiếu vì lo cơm áo gạo tiền
2026-07-21 23:59:47
0
To see more videos from user @chuyencongnhan2812, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پوچھا گیا، دروازے پر کون ہے؟ جواب آیا، میں ہوں، دید کو ترس گیا ہوں۔ فرمایا، واپس چلا جا، میرے چاہنے والوں میں ’’میں‘‘ نہیں ہوتی۔ یہ مختصر سا مکالمہ دراصل تصوف کا ایک بہت گہرا راز اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ صوفی کے نزدیک سب سے بڑی رکاوٹ کوئی بیرونی دیوار نہیں، بلکہ انسان کا اپنا ’’میں‘‘ ہے۔ جب تک بندہ اپنی ذات، اپنی خواہش، اپنی انا اور اپنے وجود کو مرکز بنائے رکھتا ہے، وہ قرب کے دروازے پر کھڑا تو رہتا ہے، مگر اندر داخل نہیں ہو پاتا۔ دلیل یہ ہے کہ محبت میں دوئی باقی نہیں رہتی۔ جہاں ’’میں‘‘ اور ’’تو‘‘ کا فاصلہ قائم ہو، وہاں ابھی سفر باقی ہے۔ سچی محبت انسان سے اس کی انا چھین لیتی ہے اور اسے اپنے محبوب کے سامنے مکمل سپردگی سکھاتی ہے۔ اسی لیے دروازے پر کھڑے شخص سے کہا گیا کہ واپس چلا جا۔ اس لیے نہیں کہ دروازہ بند تھا، بلکہ اس لیے کہ دستک دینے والا ابھی ’’میں‘‘ کے ساتھ آیا تھا۔ صوفیانہ راستے میں دروازہ باہر سے نہیں، اندر سے کھلتا ہے۔ اور اندر کا سب سے بڑا قفل انا کا ہے۔ جب ’’میں‘‘ مٹتی ہے تو ’’وہ‘‘ ظاہر ہوتا ہے۔ جب اپنی خواہش خاموش ہوتی ہے تو محبوب کی رضا سنائی دیتی ہے۔ جب بندہ اپنے ہونے کا دعویٰ چھوڑ دیتا ہے تو اسے اپنے اصل ہونے کا راز ملتا ہے۔ یہی فنا کا مفہوم ہے کہ انسان اپنی خود پسندی، تکبر اور نفسانی دعوے سے نکل کر عاجزی، محبت اور بندگی میں داخل ہو جائے۔ محبت کا کمال یہ نہیں کہ عاشق کہے، ’’میں تمہیں چاہتا ہوں‘‘، بلکہ کمال یہ ہے کہ ایک وقت آئے جب ’’میں‘‘ باقی نہ رہے، صرف چاہت باقی رہ جائے۔ پس اس حکایت کا اصل پیغام یہی ہے: دروازہ محبوب کا ہو تو دستک بھی محبت سے دو، مگر اندر جانے کے لیے ’’میں‘‘ کو باہر چھوڑ آؤ۔ کیونکہ جہاں حقیقی محبت شروع ہوتی ہے، وہاں انا کا سفر ختم ہو جاتا ہے۔ #sufism #sufilines #unfreezemyaccount #goviral #creatorsearchinsight
پوچھا گیا، دروازے پر کون ہے؟ جواب آیا، میں ہوں، دید کو ترس گیا ہوں۔ فرمایا، واپس چلا جا، میرے چاہنے والوں میں ’’میں‘‘ نہیں ہوتی۔ یہ مختصر سا مکالمہ دراصل تصوف کا ایک بہت گہرا راز اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ صوفی کے نزدیک سب سے بڑی رکاوٹ کوئی بیرونی دیوار نہیں، بلکہ انسان کا اپنا ’’میں‘‘ ہے۔ جب تک بندہ اپنی ذات، اپنی خواہش، اپنی انا اور اپنے وجود کو مرکز بنائے رکھتا ہے، وہ قرب کے دروازے پر کھڑا تو رہتا ہے، مگر اندر داخل نہیں ہو پاتا۔ دلیل یہ ہے کہ محبت میں دوئی باقی نہیں رہتی۔ جہاں ’’میں‘‘ اور ’’تو‘‘ کا فاصلہ قائم ہو، وہاں ابھی سفر باقی ہے۔ سچی محبت انسان سے اس کی انا چھین لیتی ہے اور اسے اپنے محبوب کے سامنے مکمل سپردگی سکھاتی ہے۔ اسی لیے دروازے پر کھڑے شخص سے کہا گیا کہ واپس چلا جا۔ اس لیے نہیں کہ دروازہ بند تھا، بلکہ اس لیے کہ دستک دینے والا ابھی ’’میں‘‘ کے ساتھ آیا تھا۔ صوفیانہ راستے میں دروازہ باہر سے نہیں، اندر سے کھلتا ہے۔ اور اندر کا سب سے بڑا قفل انا کا ہے۔ جب ’’میں‘‘ مٹتی ہے تو ’’وہ‘‘ ظاہر ہوتا ہے۔ جب اپنی خواہش خاموش ہوتی ہے تو محبوب کی رضا سنائی دیتی ہے۔ جب بندہ اپنے ہونے کا دعویٰ چھوڑ دیتا ہے تو اسے اپنے اصل ہونے کا راز ملتا ہے۔ یہی فنا کا مفہوم ہے کہ انسان اپنی خود پسندی، تکبر اور نفسانی دعوے سے نکل کر عاجزی، محبت اور بندگی میں داخل ہو جائے۔ محبت کا کمال یہ نہیں کہ عاشق کہے، ’’میں تمہیں چاہتا ہوں‘‘، بلکہ کمال یہ ہے کہ ایک وقت آئے جب ’’میں‘‘ باقی نہ رہے، صرف چاہت باقی رہ جائے۔ پس اس حکایت کا اصل پیغام یہی ہے: دروازہ محبوب کا ہو تو دستک بھی محبت سے دو، مگر اندر جانے کے لیے ’’میں‘‘ کو باہر چھوڑ آؤ۔ کیونکہ جہاں حقیقی محبت شروع ہوتی ہے، وہاں انا کا سفر ختم ہو جاتا ہے۔ #sufism #sufilines #unfreezemyaccount #goviral #creatorsearchinsight

About