@lahasil399: دوسرے کی عزت، جذبات یا تضحیک کرنے سے باز رکھتا ہے۔ شاعرہ اس حقیقت کا اعتراف کرتی ہے کہ وہ زندگی میں کبھی بھی کسی انسان کے احساسات، اس کی ذات اور اس کی حرمت کے ساتھ کھیلنے کا گناہ مول نہیں لیتی۔ اس کے پیچھے کوئی مجبوری یا کمزوری نہیں، بلکہ یہ کائنات کے اٹل اور سچے قانون یعنی "مکافاتِ عمل" کا خوف ہے۔ انسان کا دل اس بات سے کانپتا ہے کہ جو کچھ وہ آج کسی اور کے ساتھ کرے گا، گردشِ ایام اور وقت کا پہیہ گھوم کر وہی سب کچھ لوٹ کر اس کے اپنے پاس واپس لے آئے گا۔ یہ مکافات کا ہی خوف ہے جو انسان کو حدود میں رکھتا ہے، اسے یہ یاد دلاتا ہے کہ ظلم، دھوکہ یا دل آزاری کبھی رائیگاں نہیں جاتی اور ہر عمل کا انجام اسی دنیا میں یا اگلی زندگی میں اس کے اپنے سامنے ضرور آتا ہے۔ یہی شعوری احساس انسان کو ایک باضمیر اور حساس ہستی بناتا ہے۔#foryoupage #unfreezemyacount #standwithkashmir #flypシ