@nomiiqie71i: #foryoupage#Allahistheking#bestreahing #unfreez #viral

🕋🕌👑𝐴𝑙𝑙𝑎ℎ👑🕌🕋
🕋🕌👑𝐴𝑙𝑙𝑎ℎ👑🕌🕋
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 21 July 2026 04:59:23 GMT
17667
890
65
54

Music

Download

Comments

amirayyxx3
amiray :) 🇱🇾 :
Bro ENOUGH 😭✌️✌️✌️
2026-07-21 05:03:22
52
xo.k1mg
𝒮 🪽་༘࿐ :
Only works one time bru
2026-07-21 18:45:11
9
slothfulangelzzz
𐔌 • ა 𖥻𝟶𓄹࣪٬ꫀꑄᨶ ᠻꪖ᭢⋆˚𝜗𝜚˚⋆ :
buddy you already have 2.2M likes stop
2026-07-21 05:55:25
5
hafeezr20
MHD HAFEEZ♡R.. :
allah
2026-07-21 09:59:47
1
kyihtay6986
kyihtay6986 :
2026-07-23 04:35:19
0
dhaku.king
Dhaku King :
AllAH
2026-07-21 11:27:51
1
skkhan1000mlike
KoMal AWan :
2026-07-21 11:11:28
2
user221094073
imran ali :
allha allha mashallah
2026-07-23 05:36:00
0
supergaza1
Super Gaza 🇵🇸 :
يا أخوتي في الله أخوكم من غزة ادعموني في متابعة + قلب وشكراً لكم من أعماق قلبي🥰🌷🇵🇸
2026-07-21 12:13:10
1
julenaiyasmin
মোঃ কামরুল হোসেন তুহিন :
😡😡😡😡
2026-07-22 11:39:00
0
abidshinwari628
بدرنګ هلک :
ملګرو زما اککاونت درسره فالو کړی
2026-07-21 06:06:27
1
nightemptiness
Nightemptiness :
Как можно на этом хайпится
2026-07-22 00:23:15
0
mohammed.ado.ali1
mame waddi :
🙏🙏🙏
2026-07-21 12:04:43
1
nahidsheik678
জি এম নাহিদ :
🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2026-07-21 09:33:38
1
user812908865110
মাতাল রাজা আসিফ☠️ :
🥰🥰🥰
2026-07-21 10:11:29
1
jameellashari70
𝗝𝗮𝗺𝗲𝗲𝗹 𝗟𝗮𝘀𝗵𝗮𝗿𝗶 :
😳😳😳
2026-07-21 09:05:22
1
ahsanali111000
احسن کہتے ہیں 👑😎 :
❤️❤️❤️
2026-07-21 05:00:47
1
almanishab2
almanishab :
🌹🌹🌹
2026-07-21 05:01:32
1
ik658325wdl
Ikram khan MSD 123 :
🥰🥰🥰
2026-07-21 05:42:12
1
ganiou.bouda65
Ganiou Bouda :
❤️❤️❤️
2026-07-23 20:11:25
0
itxshamiking
꧁༺ɪᴛs sʜᴀɴɪ 786༻꧂ :
♥️♥️♥️
2026-07-23 06:54:47
0
.30524457
عبد الرحمن البرشلوني 🖤🩶🫡 :
❤️❤️❤️
2026-07-21 05:02:43
1
To see more videos from user @nomiiqie71i, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

“ابو جیسے آپ نے ساری زندگی مجھے پیار کیا ہے، ویسے ہی میری بیٹی کو بھی سب سے پہلے آپ ہی اپنی گود میں اٹھا کر ڈھیر سارا پیار کرنا” یہ الفاظ تھے پاکستانی اداکار محسن گیلانی کی بیٹی سیدہ فاطمہ کے، جو انہوں نے اپنی بیٹی کی پیدائش سے پہلے والد سے کہے تھے۔ اُس وقت محسن گیلانی ڈرامہ “گھگھی” کی شوٹنگ میں مصروف تھے، مگر انہوں نے خصوصی چھٹی لی اور اسلام آباد پہنچ گئے تاکہ اپنی بیٹی سے کیا ہوا وعدہ پورا کر سکیں۔ ننھی بچی کی پیدائش ہوگئی، لیکن خوشی کے وہ لمحے چند ہی لمحوں میں خوف میں بدل گئے۔ سیدہ فاطمہ کی بلیڈنگ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ اس نے اپنے والد کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا اور درد سے تڑپتے ہوئے کہنے لگی: ابو… میں مر رہی ہوں، مجھے بچا لو… میری ٹانگوں سے روح نکل رہی ہے۔ اہلِ خانہ انتہائ خوف اور دکھ میں مبتلا ڈاکٹرز کو بلا رہے تھے، چند لمحوں بعد ڈاکٹرز اسے اسٹریچر پر ڈال کر ایمرجنسی کی طرف دوڑ پڑے۔ محسن گیلانی بے بسی سے اس اسٹریچر کے پیچھے چل رہے تھے۔ ہسپتال کا وہ راستہ شاید چند قدموں کا تھا، مگر ایک باپ کے لیے وہ زندگی کا سب سے طویل سفر بن چکا تھا۔ ہر گزرتا لمحہ امید کے ٹوٹنے کی آواز بن رہا تھا۔ کافی دیر بعد ڈاکٹر ز انہیں اپنے دفتر میں لے گئے اور چند لمحوں کی خاموشی کے بعد انہوں نے صرف اتنا کہا: “آپ کی بیٹی اس دنیا میں نہیں رہی” یہ سنتے ہی جیسے وقت تھم سا گیا۔ محسن گیلانی شدید صدمے میں تھے۔ انہیں کچھ یاد نہیں تھا، نہ اپنے اردگرد کے لوگ، نہ دنیا، نہ خود اپنی کیفیت۔ ان کی تمام سوچ صرف اپنی بیٹی کے آخری سفر تک محدود ہو چکی تھی۔ اسی دوران نرسری سے ایک خاتون آئیں اور روتے ہوئے بولیں: “آپ بیٹی کے غم میں اپنی نواسی کو بھول گئے” یہ سنتے ہی انہیں اپنی بیٹی کی آخری خواہش یاد آگئی۔ انہوں نے اپنی ننھی نواسی کو پہلی بار گود میں اٹھایا، اسے سینے سے لگایا، اور یوں اپنی بیٹی سے کیا ہوا وعدہ نبھا دیا۔ پھر وہ اپنی نواسی کو ساتھ لے کر ملتان روانہ ہوئے، جبکہ پیچھے ایمبولینس میں ان کی جوان بیٹی کی میت تھی۔ اسلام آباد سے ملتان تک تقریباً دس گھنٹے کا سفر… ایک طرف گاڑی کی اسٹیئرنگ پر بیٹھا باپ، دوسری طرف پیچھے چلتی ایمبولینس، اور اس کا مسلسل بجتا ہوا سائرن۔ محسن گیلانی کہتے ہیں کہ آج بھی ایمبولینس کا سائرن سنتا ہوں تو دل کانپ اٹھتا ہے۔ وہ آواز میرے لیے صرف ایک سائرن نہیں، بلکہ میری زندگی کے سب سے دردناک دن کی یاد ہے، جو ہر بار میرے زخم پھر سے تازہ کر دیتی ہے
“ابو جیسے آپ نے ساری زندگی مجھے پیار کیا ہے، ویسے ہی میری بیٹی کو بھی سب سے پہلے آپ ہی اپنی گود میں اٹھا کر ڈھیر سارا پیار کرنا” یہ الفاظ تھے پاکستانی اداکار محسن گیلانی کی بیٹی سیدہ فاطمہ کے، جو انہوں نے اپنی بیٹی کی پیدائش سے پہلے والد سے کہے تھے۔ اُس وقت محسن گیلانی ڈرامہ “گھگھی” کی شوٹنگ میں مصروف تھے، مگر انہوں نے خصوصی چھٹی لی اور اسلام آباد پہنچ گئے تاکہ اپنی بیٹی سے کیا ہوا وعدہ پورا کر سکیں۔ ننھی بچی کی پیدائش ہوگئی، لیکن خوشی کے وہ لمحے چند ہی لمحوں میں خوف میں بدل گئے۔ سیدہ فاطمہ کی بلیڈنگ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ اس نے اپنے والد کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا اور درد سے تڑپتے ہوئے کہنے لگی: ابو… میں مر رہی ہوں، مجھے بچا لو… میری ٹانگوں سے روح نکل رہی ہے۔ اہلِ خانہ انتہائ خوف اور دکھ میں مبتلا ڈاکٹرز کو بلا رہے تھے، چند لمحوں بعد ڈاکٹرز اسے اسٹریچر پر ڈال کر ایمرجنسی کی طرف دوڑ پڑے۔ محسن گیلانی بے بسی سے اس اسٹریچر کے پیچھے چل رہے تھے۔ ہسپتال کا وہ راستہ شاید چند قدموں کا تھا، مگر ایک باپ کے لیے وہ زندگی کا سب سے طویل سفر بن چکا تھا۔ ہر گزرتا لمحہ امید کے ٹوٹنے کی آواز بن رہا تھا۔ کافی دیر بعد ڈاکٹر ز انہیں اپنے دفتر میں لے گئے اور چند لمحوں کی خاموشی کے بعد انہوں نے صرف اتنا کہا: “آپ کی بیٹی اس دنیا میں نہیں رہی” یہ سنتے ہی جیسے وقت تھم سا گیا۔ محسن گیلانی شدید صدمے میں تھے۔ انہیں کچھ یاد نہیں تھا، نہ اپنے اردگرد کے لوگ، نہ دنیا، نہ خود اپنی کیفیت۔ ان کی تمام سوچ صرف اپنی بیٹی کے آخری سفر تک محدود ہو چکی تھی۔ اسی دوران نرسری سے ایک خاتون آئیں اور روتے ہوئے بولیں: “آپ بیٹی کے غم میں اپنی نواسی کو بھول گئے” یہ سنتے ہی انہیں اپنی بیٹی کی آخری خواہش یاد آگئی۔ انہوں نے اپنی ننھی نواسی کو پہلی بار گود میں اٹھایا، اسے سینے سے لگایا، اور یوں اپنی بیٹی سے کیا ہوا وعدہ نبھا دیا۔ پھر وہ اپنی نواسی کو ساتھ لے کر ملتان روانہ ہوئے، جبکہ پیچھے ایمبولینس میں ان کی جوان بیٹی کی میت تھی۔ اسلام آباد سے ملتان تک تقریباً دس گھنٹے کا سفر… ایک طرف گاڑی کی اسٹیئرنگ پر بیٹھا باپ، دوسری طرف پیچھے چلتی ایمبولینس، اور اس کا مسلسل بجتا ہوا سائرن۔ محسن گیلانی کہتے ہیں کہ آج بھی ایمبولینس کا سائرن سنتا ہوں تو دل کانپ اٹھتا ہے۔ وہ آواز میرے لیے صرف ایک سائرن نہیں، بلکہ میری زندگی کے سب سے دردناک دن کی یاد ہے، جو ہر بار میرے زخم پھر سے تازہ کر دیتی ہے

About