@princessofnature1: اکثر وہی انتظار ادھورے رہ جاتے ہیں جو بہت شدت سے کیے جاتے ہیں۔ انسان کسی کے آنے کی امید میں اپنی پوری دنیا روک دیتا ہے، ہر آہٹ پر چونک اٹھتا ہے، ہر راستے کو دیکھتا ہے اور ہر لمحے یہی سوچتا ہے کہ شاید اب وہ آئے گا۔ مگر کبھی کبھی انتظار صرف انتظار ہی رہ جاتا ہے، منزل نہیں بنتا۔ جس شخص کے لیے ہم اپنی راتوں کی نیند، دنوں کا سکون اور دل کی بے قراری قربان کر دیتے ہیں، وہ شاید کبھی ہماری شدت کو سمجھ ہی نہیں پاتا۔ وقت گزرتا رہتا ہے، موسم بدلتے رہتے ہیں، مگر دل ایک ہی مقام پر ٹھہرا رہتا ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف تب ہوتی ہے جب انسان کو یہ احساس ہو کہ جس کے آنے کا انتظار تھا، وہ کبھی آنے والا ہی نہیں تھا۔ پھر دل خود کو سمجھاتا ہے کہ کچھ انتظار قسمت میں نہیں، صرف یادوں میں لکھے ہوتے ہیں۔