@yasirpardesi2020: اگر آپ سے مراد ایسے لوگ ہیں جو ظلم، غنڈہ گردی، لوٹ مار، یا دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں، تو ان کے ایسے اعمال قابلِ مذمت ہیں۔ اسلام میں ظلم اور فساد کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ کسی کا حق مارنا، لوگوں کو ڈرانا، یا انہیں نقصان پہنچانا گناہ ہے، اور ہر شخص کو اپنے اعمال کا جواب اللہ تعالیٰ کے سامنے دینا ہوگا۔ البتہ یہ بھی درست ہے کہ ہم کسی شخص کے پورے کردار پر فیصلہ کرنے کے بجائے اس کے برے اعمال کی مذمت کریں، کیونکہ بعض لوگ اپنی غلطیوں سے توبہ کرکے اچھے انسان بھی بن جاتے ہیں۔ اگر آپ "بدماش" سے کسی خاص گروہ یا کسی مخصوص قسم کے لوگوں کی بات کر رہے ہیں، تو بتائیں، میں اسی حوالے سے جواب دوں گا۔ #for