@calistoime: Захахахаха простите это последнее #cave#turtle#черепаха#пещера#блондинка

Calisto
Calisto
Open In TikTok:
Region: NL
Tuesday 21 July 2026 11:52:20 GMT
2561437
346397
876
6151

Music

Download

Comments

pyatnade
🪷พี่น้องอลิเซีย🌺 :
Алекса когда вырастит
2026-07-22 08:18:36
55976
isqqwerr0
Любовь Семья Потомство 🩸 :
ты как Рикки из h2o 🙏🏼
2026-07-25 06:33:54
7155
a0884691
. :
они кстати кусаются
2026-08-06 17:09:17
1163
saturday_saturn0
saturday :
ВЫ ЖЕ БУКВАЛЬНО ЛАГУНА ИЗ МОНСТР ХАЙ
2026-08-27 14:02:38
2099
view_1110
🍁⋆౨ৎ˚⟡˖ veyn ౨ৎ˚⟡🍁 :
Вы как буто в H2o
2026-07-22 11:09:40
4928
fwae_ewww
kcannie :
Достаточно нишево
2026-07-21 13:07:14
4495
jivlixz
julia🎐 :
holy model potencial
2026-07-23 18:27:14
260
lirikaseks
тгк: лирика :
Черепашки ниндзя
2026-07-21 12:21:50
3449
hehe_danel
Данель :
а черепахи теперь шарят за физику?
2026-07-21 14:02:25
1358
naomi_08763
.:Стилл-вотер 11037!¿🦖🧼} :
Ареновский купальник
2026-07-22 03:56:56
180
sasshaaks
сашахз :
Кусаются?
2026-07-21 12:10:43
1356
kolo5326
Kolo :
что то между 12 и 22
2026-07-22 19:33:38
111
anime.zu.iroi
Online :
На самом деле, черепахи ужасно больно кусаются (маленькие) А БОЛЬШИЕ я вообще не представляю, руку откусят и норм 👌. Я даже свою черепашку маленькую боюсь на руки брать, так как знаю какие у них челюсти сильные 😭
2026-07-21 13:45:36
956
jeahaso25
Jeahaso25 :
Великолепная внешность
2026-07-23 05:30:35
20
sweetie_cat01
марикотта💭 :
это же как в h2o
2026-07-21 18:05:16
105
kole7fs
squidward.tentacles :
ты очень красивая
2026-07-22 04:51:05
14
sofiakisaflow
sonyaa🏹🐚 :
Вы что там в H20 если да то я к вам
2026-07-25 09:59:23
6
user69680461048460
ватрушка :
урааа физмат отдыхает! хорошего отдыха!
2026-07-22 03:08:50
26
knbufantik
Жирный гуль :
То ли 11 то ли 25
2026-07-22 13:57:56
35
romansh35
Генерал майонез :
рыбу чуют
2026-07-21 22:52:50
100
user2795513128249
𝒵𝓁𝒶𝓉𝒶🫦 :
Я ПОДУМАЛА ЧТО ВЫ АМЕРИКАНКА
2026-07-26 07:30:44
20
kami.xc4
kami.xc :
где фото Вани Дмитриенко
2026-07-26 04:24:10
8
_anfy_
ANFY :
I mean.. that’s a niche experience 🙏
2026-07-22 20:05:30
50
reina_2286
тануа :
Ответьте на мой комм, заблокали чат
2026-07-27 17:13:12
8
To see more videos from user @calistoime, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

تین سال ملبے میں جسم سلامت! غزہ: محکمہ شہری دفاعِ نے کل بدھ کے روز وسطی غزہ کے علاقے الیرموک میں واقع التاج کمپلیکس کے ملبے سے شہدا کی باقیات نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ 17 روز تک جاری رہنے والے سرچ آپریشن کے دوران مجموعی طور پر 101 فلسطینی شہدا کی لاشیں اور باقیات نکالی گئیں۔ جو تباہ شدہ مکانات کے ملبے تلے دفن تھے۔ کارروائی مصری کمیٹی کے تعاون سے مکمل کی گئی۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق ان شہدا میں احمد ابو حبل بھی شامل تھے، جن کی لاش 3 سال تک عمارت کے ملبے تلے دبی رہی۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ جب ان کا جسد خاکی نکالا گیا تو وہ سجدے کی حالت میں تھے اور ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے انہیں اسی لمحے سجدے کی حالت میں موت آئی ہو۔ جسم بالکل صحیح سلامت تھا اور خون بہہ رہا تھا۔ احمد کے بھائی ایمن ابو حبل نے سوشل میڈیا پر ان کی تدفین کی ویڈیو کے ساتھ اپنے بھائی کی جدائی اور تین سالہ انتظار کی داستان بیان کرتے ہوئے لکھا: ’’تین سال تک اپنے بھائی، شہید احمد بن محمود ابو حبل کو کھونے کے بعد آج ہم نے عمارت التاج کے ملبے سے ان کا پاکیزہ جسد خاکی نکال لیا۔ وہ ظلم اور ناحق جارحیت کا نشانہ بنے اور تین سال تک ملبے تلے رہے۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا: ’’ان کی لاش ہمارے لیے اللہ کی طرف سے ایک کرامت جیسی تھی۔ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے انہیں اسی دن ملبے سے نکالا گیا ہو جس دن وہ شہید ہوئے تھے۔ اے اللہ! ان پر رحم فرما، انہیں معاف فرما، ان کی منزل کو عزت و اکرام عطا فرما۔ اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے!‘‘ احمد کے بھائی نے دعا کرتے ہوئے لکھا: ’’اے اللہ! وہ تیری پناہ اور تیرے عہد میں ہے، اسے آگ اور قبر کے عذاب سے محفوظ فرما۔ تو حق اور وفا کا مالک ہے، پس اسے بخش دے اور اس پر رحم فرما، اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے!‘‘ شہری دفاعِ کے مطابق التاج کمپلیکس میں شہدا کی تلاش اور باقیات نکالنے کا عمل 17 روز تک جاری رہا اور بدھ کو آخری مرحلہ مکمل ہوگیا۔ حکام کے مطابق اس علاقے سے نکالی گئی لاشوں کی مجموعی تعداد 101 ہوگئی ہے۔ شہدا کی اجتماعی تدفین کے لیے آئندہ دنوں میں تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ التاج کمپلیکس میں ہونے والی تباہی کا تعلق غزہ جنگ کے ابتدائی دنوں سے ہے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق 25 اکتوبر 2023ء کو الیرموک میں عمارت ’’التاج 3‘‘ اور اس کے گرد رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ سات منزلہ عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی اور اس میں موجود متعدد شہری شہید یا زخمی ہوئے۔ غزہ میں ملبے تلے دبے شہدا کی لاشیں نکالنے کا عمل محدود وسائل اور بھاری مشینری کی کمی کے باعث انتہائی سست رفتاری سے جاری ہے۔ دفاعِ مدنی نے گزشتہ برس شروع کیے گئے ’’شہدا کے جسد خاکی کی بازیابی‘‘ کے منصوبے کے دوسرے مرحلے کے تحت شہر غزہ اور نصیرات میں تباہ شدہ مکانات کے ملبے سے لاشیں تلاش کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ تین سال بعد احمد ابو حبل سمیت 101 فلسطینیوں کے جسد خاکی اپنے اہل خانہ تک پہنچنا غزہ میں تباہی کے ان ہزاروں واقعات کی یاد دہانی بھی ہے جن میں لوگ اپنے پیاروں کو دفن کرنے کا حق بھی حاصل نہ کرسکے اور ان کے جسد خاکی طویل عرصے تک ملبے تلے دفن رہے۔ (حوالہ ترک خبر رساں ایجنسی). #fyp #fyp #fyp
تین سال ملبے میں جسم سلامت! غزہ: محکمہ شہری دفاعِ نے کل بدھ کے روز وسطی غزہ کے علاقے الیرموک میں واقع التاج کمپلیکس کے ملبے سے شہدا کی باقیات نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ 17 روز تک جاری رہنے والے سرچ آپریشن کے دوران مجموعی طور پر 101 فلسطینی شہدا کی لاشیں اور باقیات نکالی گئیں۔ جو تباہ شدہ مکانات کے ملبے تلے دفن تھے۔ کارروائی مصری کمیٹی کے تعاون سے مکمل کی گئی۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق ان شہدا میں احمد ابو حبل بھی شامل تھے، جن کی لاش 3 سال تک عمارت کے ملبے تلے دبی رہی۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ جب ان کا جسد خاکی نکالا گیا تو وہ سجدے کی حالت میں تھے اور ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے انہیں اسی لمحے سجدے کی حالت میں موت آئی ہو۔ جسم بالکل صحیح سلامت تھا اور خون بہہ رہا تھا۔ احمد کے بھائی ایمن ابو حبل نے سوشل میڈیا پر ان کی تدفین کی ویڈیو کے ساتھ اپنے بھائی کی جدائی اور تین سالہ انتظار کی داستان بیان کرتے ہوئے لکھا: ’’تین سال تک اپنے بھائی، شہید احمد بن محمود ابو حبل کو کھونے کے بعد آج ہم نے عمارت التاج کے ملبے سے ان کا پاکیزہ جسد خاکی نکال لیا۔ وہ ظلم اور ناحق جارحیت کا نشانہ بنے اور تین سال تک ملبے تلے رہے۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا: ’’ان کی لاش ہمارے لیے اللہ کی طرف سے ایک کرامت جیسی تھی۔ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے انہیں اسی دن ملبے سے نکالا گیا ہو جس دن وہ شہید ہوئے تھے۔ اے اللہ! ان پر رحم فرما، انہیں معاف فرما، ان کی منزل کو عزت و اکرام عطا فرما۔ اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے!‘‘ احمد کے بھائی نے دعا کرتے ہوئے لکھا: ’’اے اللہ! وہ تیری پناہ اور تیرے عہد میں ہے، اسے آگ اور قبر کے عذاب سے محفوظ فرما۔ تو حق اور وفا کا مالک ہے، پس اسے بخش دے اور اس پر رحم فرما، اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے!‘‘ شہری دفاعِ کے مطابق التاج کمپلیکس میں شہدا کی تلاش اور باقیات نکالنے کا عمل 17 روز تک جاری رہا اور بدھ کو آخری مرحلہ مکمل ہوگیا۔ حکام کے مطابق اس علاقے سے نکالی گئی لاشوں کی مجموعی تعداد 101 ہوگئی ہے۔ شہدا کی اجتماعی تدفین کے لیے آئندہ دنوں میں تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ التاج کمپلیکس میں ہونے والی تباہی کا تعلق غزہ جنگ کے ابتدائی دنوں سے ہے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق 25 اکتوبر 2023ء کو الیرموک میں عمارت ’’التاج 3‘‘ اور اس کے گرد رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ سات منزلہ عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی اور اس میں موجود متعدد شہری شہید یا زخمی ہوئے۔ غزہ میں ملبے تلے دبے شہدا کی لاشیں نکالنے کا عمل محدود وسائل اور بھاری مشینری کی کمی کے باعث انتہائی سست رفتاری سے جاری ہے۔ دفاعِ مدنی نے گزشتہ برس شروع کیے گئے ’’شہدا کے جسد خاکی کی بازیابی‘‘ کے منصوبے کے دوسرے مرحلے کے تحت شہر غزہ اور نصیرات میں تباہ شدہ مکانات کے ملبے سے لاشیں تلاش کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ تین سال بعد احمد ابو حبل سمیت 101 فلسطینیوں کے جسد خاکی اپنے اہل خانہ تک پہنچنا غزہ میں تباہی کے ان ہزاروں واقعات کی یاد دہانی بھی ہے جن میں لوگ اپنے پیاروں کو دفن کرنے کا حق بھی حاصل نہ کرسکے اور ان کے جسد خاکی طویل عرصے تک ملبے تلے دفن رہے۔ (حوالہ ترک خبر رساں ایجنسی). #fyp #fyp #fyp

About