@s.s.bukhari1: میں بہت دعا کرتا ہوں، وظائف بھی پڑھتا ہوں، پھر بھی دل کو سکون کیوں نہیں ملتا؟ 💔 ایک طالبِ علم نے آیت اللہ بہجتؒ سے پوچھا: "میں نماز بھی پڑھتا ہوں، دعائیں بھی کرتا ہوں، وظائف بھی پڑھتا ہوں، لیکن پھر بھی دل بےچین رہتا ہے۔ سکون کیوں نہیں ملتا؟" آیت اللہ بہجتؒ نے مختصر مگر بہت گہرا جواب دیا: "گناہ چھوڑ دو، سکون خود دل میں اتر آئے گا۔" طالبِ علم نے حیرت سے پوچھا: "کیا واقعی صرف اتنی سی بات؟" آپؒ نے فرمایا: "ہاں۔ تم عبادت تو بہت کرتے ہو، لیکن اپنی زبان، اپنی نگاہ اور اپنے دل کی حفاظت نہیں کرتے۔ تم دعا مانگتے ہو، مگر دل میں حسد بھی رکھتے ہو۔ تم ذکر کرتے ہو، مگر اپنی نگاہ کو گناہ سے نہیں بچاتے۔ تم نماز پڑھتے ہو، مگر کبھی لوگوں کو اپنی باتوں یا رویّے سے تکلیف بھی دیتے ہو۔ یاد رکھو! گناہ دل کو اندھیرا کر دیتے ہیں، اور اندھیرے دل میں عبادت کا نور محسوس نہیں ہوتا۔ پہلے گناہوں سے بچنے کی کوشش کرو، پھر دیکھو... وہی نماز تمہارے دل کا سکون بن جائے گی۔ وہی دعا تمہاری آنکھوں سے آنسو بن کر نکلے گی۔ اور وہی بےچین دل، اللہ کی یاد سے مطمئن ہو جائے گا۔ 🤍 اللّٰہم صلّ علیٰ محمد وآلِ محمد وعجّل فرجہم