@malikshah765: میں نے بہت کوشش کی کہ تیرے نام کو اپنی سانسوں سے الك كر دوں۔ مگر کچھ محبتیں جسم سے نہیں، روح سے چمٹ جاتی ہیں۔ ہر دعا میں تیرا ذکر تھا، بر خواب میں تیرا چہرہ، ہر امید کا مرکز تو تھی مگر اب حقیقت یہ ہے کہ تو میری دعاؤں کا نہیں، کسی اور کی زندگی کا حصہ ہے۔ اب میرے اندر تیرے لیے جو جگہ باقی ہے، وہ صرف درد کو زندہ رکھتی ہے۔ تيرے خيال اب سکون نہیں دیتے، صرف یہ احساس دلاتے ہیں کہ جسے میں نے اپنی دنیا سمجھا تھا، وہ کسی اور کی دنیا آباد کر چکی ہے۔ ... اس لیے اب تو نکل جا مجھ میں سے میری یادوں سے، میری دعاؤں سے میری راتوں سے میری آنکھوں سے میری دھڑکنوں سے۔ کیونکہ میں ہر روز تجھے اپنے اندر زنده رکھ کر خود کو تھوڑا تھوڑا مارتے مارتے تھک گیا ہوں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ میں تیرے بغیر جینا سیکھوں چاہے یہ سیکھنے میں میری پوری زندگی ہی کیوں نہ گزر جائے۔