@mec.fresh80:

🔱Prince òürÿ Sagas🥷✨💍🦁
🔱Prince òürÿ Sagas🥷✨💍🦁
Open In TikTok:
Region: SN
Tuesday 21 July 2026 23:25:59 GMT
1059
50
3
1

Music

Download

Comments

misto.dou.49
MISTO DOU 49 :
🥰🥰🥰
2026-07-22 00:59:21
0
user337710221236
user337710221236 :
🥰🥰🥰
2026-07-22 00:49:52
0
abdoulaye.22418
Abdoulaye 224 :
🥰🥰🥰
2026-07-22 01:08:49
0
To see more videos from user @mec.fresh80, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


"غازی علم الدین شہید" کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں) برطانوی ہندوستان کے شہر لاہور کے ایک نوجوان مسلمان تھے، جو پیشے کے لحاظ سے بڑھئی (کارپینٹر) تھے۔ 1929ء میں ایک ہندو ناشر، Rajpal نے ایک کتاب شائع کی جسے بہت سے مسلمانوں نے حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخانہ قرار دیا۔ اس واقعے پر شدید غم و غصے کے ماحول میں، علم الدین نے راجپال کو قتل کر دیا۔ برطانوی حکومت نے انہیں گرفتار کیا، مقدمہ چلایا، اور عدالت نے سزائے موت سنائی۔ 31 اکتوبر 1929ء کو لاہور جیل میں انہیں پھانسی دے دی گئی۔ ان کے جنازے میں بہت بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے، اور برصغیر کے بہت سے مسلمانوں نے انہیں "غازی" اور "شہید" کے لقب سے یاد کیا۔ تاہم، قانونی اعتبار سے وہ ایک ایسے شخص تھے جسے برطانوی عدالت نے قتل کے جرم میں سزا دی تھی۔ اس لیے ان کی شخصیت تاریخی اور مذہبی لحاظ سے مختلف نقطۂ نظر کا موضوع ہے۔ اس مقدمے میں Muhammad Ali Jinnah نے اپیل کے مرحلے پر ان کی قانونی نمائندگی بھی کی تھی، اگرچہ اپیل کامیاب نہ ہو سکی۔

About