@abdullah.mashal.y: عنوان شاعری: بارش تلے ادھوری گفتگو برس رہی تھی گھٹا، تُو سایۂ بان تلے خاموش تھی میں بھی خاموش تھا، مگر دل کی صدا خاموش تھی کالی ردائے حیا میں لپٹی، نرم قدم، دھیمی چال یوں لگا، وقت بھی ٹھہر جائے، فضا خاموش تھی نظر اُٹھی بھی کئی بار، پھر جھک گئی حیا کے ساتھ لب پہ آ کر رک گئے لفظ، صرف نگاہ خاموش تھی میں نے جان بوجھ کر تجھے دیکھا نہیں اُس موڑ پر یہ میری بے رُخی نہ تھی، میری وفا خاموش تھی پیچھے مُڑنے کے وہ چند لمحے ابھی تک یاد ہیں بارشیں بولتی رہیں، میری دعا خاموش تھی دوریوں اور نگاہوں کے فاصلے دل مٹا نہ پائے تیرے زخم زندہ رہے، مگر تیرا گِلہ خاموش تھا کاش تُو میری ان سطروں کا اشارہ پڑھ سکے ہر شعر تیرے نام تھا، مشال کی ادا خاموش تھی #RainDay #Pleasure #GuiltyPleasure #Swabiwall❤🔥