@_laghari_writes_: تلخ حقیقت یہ ہے کہ جب تک انسان زندہ ہے، اُسے ہر قدم پر آزمائش، مخالفت، ناکامی اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کوئی اُس کے راستے میں دیوار بنتا ہے، کوئی اُس کی ہمت توڑنے کی کوشش کرتا ہے، اور کوئی اُس کی کامیابی سے خوف کھا کر اُس کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ مگر یہی زندگی کا قانون ہے کہ سانس لینے والوں کو ہی جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ جب انسان چلنا چھوڑ دے تو راستے خود بخود خالی ہو جاتے ہیں۔ مگر اُس خالی راستے کی کوئی قیمت نہیں، کیونکہ وہ منزل تک پہنچنے والوں کے لیے نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لیے رُک جانے والوں کے لیے ہوتا ہے۔ یاد رکھو، اگر تمہاری راہ میں رکاوٹیں ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ تم ابھی زندہ ہو، ابھی لڑ رہے ہو، ابھی آگے بڑھ رہے ہو۔ کیونکہ دنیا صرف اُن لوگوں کا راستہ روکتی ہے جو آگے نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جو پہلے ہی ہار مان چکے ہوں، اُنہیں روکنے کی کسی کو ضرورت نہیں پڑتی۔ اس لیے مشکلات سے گھبراؤ نہیں۔ رکاوٹوں کو اپنی کمزوری نہیں، اپنی زندگی کی دلیل سمجھو۔ کیونکہ قبر تک پہنچنے کے لیے راستہ سب کو مل جاتا ہے، مگر زندگی میں اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے راستہ خود بنانا پڑتا ہے۔