@astefaniex:

stefania
stefania
Open In TikTok:
Region: DE
Wednesday 22 July 2026 09:58:26 GMT
45398
4272
32
332

Music

Download

Comments

nonutnoah4
nonutnoah4 :
dream girl wallahi
2026-09-08 07:33:38
0
colourmejaded
colourmejaded :
Swedish phoebe gates coordinator
2026-07-26 21:26:46
0
fania.iscc
Fania :
shot of espresso indeed
2026-07-27 05:39:12
0
hugo41816
Hugo :
Fabulous girl 🌹💕🥰
2026-07-22 22:14:34
0
soren.silent
s :
can i get espresso
2026-07-22 15:31:39
0
howlikk
, :
лучше всех
2026-07-22 10:04:12
0
giluen.10p
Luca :
2026-07-22 16:58:58
0
tobi_maguire1975
Peter Parker :
2026-07-29 16:36:09
0
slansky7
Slansky :
2026-07-22 10:18:41
0
oxsov2d
Oxsov1d :
мамочка снова выпустила видео
2026-07-22 10:09:43
0
reminiscenceishere
reminiscenceishere :
Early
2026-07-22 10:04:39
0
takehiko.yosida
yosidw :
пр
2026-07-22 11:55:16
2
khvvbychoice
KHHV :
why are you carrying a toy with you😭✌️
2026-07-22 17:37:08
0
To see more videos from user @astefaniex, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کاش سمندر کی کسی خاموش شام میں مجھے وہ بچہ دوبارہ مل جائے، جو لہروں سے نہیں ڈرتا تھا، جو ریت پر گرتا تھا تو ہنس کر اٹھ جاتا تھا، اور جس کے لیے خوشی کا مطلب صرف اتنا تھا کہ ہوا تیز چل رہی ہے اور سمندر سامنے ہے۔ وہ بچہ شاید آج بھی میرے اندر کہیں زندہ ہے، مگر زندگی کی ذمہ داریوں، لوگوں کی توقعات اور معاشرے کے بنائے ہوئے اصولوں کے نیچے اتنا دب گیا ہے کہ اس کی آواز بھی سنائی نہیں دیتی۔ کبھی دل چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر اسی ساحل پر جا بیٹھوں، اپنے برسوں کے غم ایک ایک کر کے لہروں میں بہا دوں، پھر ننگے پاؤں ریت پر چلوں اور اس بچے کی طرح بےفکری سے جھوموں جسے نہ دنیا کو کچھ ثابت کرنا تھا، نہ کسی کے سامنے خود کو درست ثابت کرنا تھا۔ شاید ہم بڑے ہو کر خوش رہنا نہیں بھولتے، ہم صرف یہ بھول جاتے ہیں کہ خوشی کس طرح محسوس کی جاتی ہے۔ اور شاید میری سب سے بڑی خواہش بھی کوئی نئی زندگی نہیں، بس اپنے اندر دفن اُس معصوم زندگی تک دوبارہ پہنچ جانا ہے، جہاں دل پر بوجھ نہیں تھا، آنکھوں میں خوف نہیں تھا، اور مسکرانے کے لیے کسی وجہ کی ضرورت نہیں تھی 🥹💔
کاش سمندر کی کسی خاموش شام میں مجھے وہ بچہ دوبارہ مل جائے، جو لہروں سے نہیں ڈرتا تھا، جو ریت پر گرتا تھا تو ہنس کر اٹھ جاتا تھا، اور جس کے لیے خوشی کا مطلب صرف اتنا تھا کہ ہوا تیز چل رہی ہے اور سمندر سامنے ہے۔ وہ بچہ شاید آج بھی میرے اندر کہیں زندہ ہے، مگر زندگی کی ذمہ داریوں، لوگوں کی توقعات اور معاشرے کے بنائے ہوئے اصولوں کے نیچے اتنا دب گیا ہے کہ اس کی آواز بھی سنائی نہیں دیتی۔ کبھی دل چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر اسی ساحل پر جا بیٹھوں، اپنے برسوں کے غم ایک ایک کر کے لہروں میں بہا دوں، پھر ننگے پاؤں ریت پر چلوں اور اس بچے کی طرح بےفکری سے جھوموں جسے نہ دنیا کو کچھ ثابت کرنا تھا، نہ کسی کے سامنے خود کو درست ثابت کرنا تھا۔ شاید ہم بڑے ہو کر خوش رہنا نہیں بھولتے، ہم صرف یہ بھول جاتے ہیں کہ خوشی کس طرح محسوس کی جاتی ہے۔ اور شاید میری سب سے بڑی خواہش بھی کوئی نئی زندگی نہیں، بس اپنے اندر دفن اُس معصوم زندگی تک دوبارہ پہنچ جانا ہے، جہاں دل پر بوجھ نہیں تھا، آنکھوں میں خوف نہیں تھا، اور مسکرانے کے لیے کسی وجہ کی ضرورت نہیں تھی 🥹💔

About