دیکھ کر آزاد پرندوں کو آہ بھرا کرتی تھی سکینہ ہم بھی جائنگے وطن سجاڈ سے کہا کرتی تھی سکینہ دکھ نہ جائیں پھر سے کہیں زخمی کان میرے سونا تو کجا آنکھ بند کرنے سے ڈرا کرتی تھی سکینہ جاوں گی نجف جب کرونگی فریاد دادا سے بابا سے بچھڑ کر خاک پر سویا کرتی تھی سکینہ کیونکر چھیدا گیا گلا میرے علی اصغر کا آخر بھلا کر درد اپنے اکثر پوچھا کرتی تھی سکینہ جی بھر کے کرونگی ماتم بابا تیری غربت کا رخ به کربل ہو کے کہا کرتی تھی سکینہ فرات غم کی ہوئی جاری آنکھوں پھر آج یاد آئے وہ منظر جیسے رہا کرتی تھی سکینہ رو پڑا قلم بھی آخر یہ کہہ کر فواد لکھ سکوں بھلا کیسے نوحہ 😭🙌💔جو پڑھا کرتی تھی سکینہ