شہر اُس کا روشن دیکھا، اُس کی محبت میں، ہم نے خود کو فنا کر دیا، اُس کی محبت میں۔
دل ہمارا اُس کی سچائی پہ فدا ہو گیا، ہم قید ہو گئے دنیا کی زنجیروں میں۔
وہ مسکراتا رہا، ہم دعائیں کرتے رہے، ہر خوشی مانگی فقط اُس کی محبت میں۔
اپنا ہر خواب اُس کے نام لکھ دیا، خود کو بھلا دیا اُس کی محبت میں۔
مقدر نے چاہا تو فاصلے لکھ دیے، ورنہ کمی نہ تھی ہماری محبت میں۔
اب بھی دل اُسی کے ذکر سے دھڑکتا ہے، کچھ تو بات تھی اُس کی محبت میں۔