تصوف کی نظر میں نفس انسان کو غرور، خواہشات اور غفلت کی طرف کھینچتا ہے، جبکہ تصورِ مرشد سالک کو ہر لمحہ اپنے باطن کی اصلاح، ذکرِ الٰہی اور اللہ کی رضا کی طرف متوجہ رکھتا ہے۔ اگر مرشد کامل شریعت و سنت کا پابند ہو تو اس کی تعلیم اور صحبت انسان کے نفس کو قابو میں رکھنے اور دل کو پاکیزہ بنانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرے اور اپنے نفس کو اس کا غلام نہ بننے دے۔