@bukhari8070: "جہاں سب اپنے مقدر سے تھے بیزار بہت ہم اسی شہر میں تھے سب سے وفادار بہت لفظ سچ بولنے کی ہمیں سزاوں پائی آئینے ہاتھ میں لے کر تھے خطا کار بہت جن کے دعوؤں سے کبھی حوصلہ بڑھتا تھا میرا وقت آیا تو وہی نکلے طلبگار بہت ہم نے تنہائی کو اوڑھا تو یہی بات کھلی ملی دنیا سے ہوا دل پہ گراں بار بہت ایک ہی خواب نے سونے نہ دیا زندگی بھر ورنہ بستر پہ ہمیں بھی خوش آشکار بہت ہم نے خاموشی کو سرِ معاہدہ اختیار کیا شور کرنے کو یہاں تھے بھی بیشمار بہت جس سے امیدِ مروت تھی، وہی لوٹ گیا ہم بھی بیگانے تھے یہ سایہ دیوار بہت ساغر اس دور میں رکھو حوصلہ سچ کہنے کا کیونکہ سچ بولنے والے یہاں خوار بہت"#foryou #fypシ #poetry