@naz_typist: "لوگ کہتے ہیں، 'یہ تو صرف سر درد ہے'... مگر انہیں کیا معلوم کہ یہ درد کسی دوا سے ٹھیک ہونے والا نہیں۔ رات بھر کروٹیں بدلتے بدلتے صبح ہو جاتی ہے، مگر میری آنکھوں کو نیند نصیب نہیں ہوتی۔ میں چاہ کر بھی زیادہ رو نہیں پاتی، کیونکہ آنسو بھی شاید میرے ساتھ تھک چکے ہیں۔ میں زیادہ سوچنا بھی نہیں چاہتی، مگر یادیں میرا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ کبھی کبھی میرا سر اس شدت سے درد کرتا ہے کہ لگتا ہے جیسے میرے اندر کچھ ٹوٹ رہا ہو۔ میں کسی کو بتاؤں بھی تو کیسے؟ لوگ تو بس اتنا ہی کہیں گے کہ 'سر درد ہے، دوا کھا لو'... مگر انہیں کون سمجھائے کہ یہ درد میرے سر کا نہیں، میرے دل کا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ خاموش تکلیف آہستہ آہستہ میری جان کھا رہی ہو۔ میں زندہ تو ہوں، مگر اندر سے کب کی بکھر چکی ہوں۔ بس اب اتنا چاہتی ہوں کہ یا تو یہ درد ختم ہو جائے... یا پھر میں۔۔۔۔۔۔۔