@saqi.wrai8s: جب انسان کو لوگوں سے تکلیف ملتی ہے، تو وہ آہستہ آہستہ تنہائی کا عادی ہو جاتا ہے۔ کیونکہ خاموشی اکثر اُن زخموں کا علاج بن جاتی ہے، جو لوگوں کے رویّے دے جاتے ہیں۔ پھر نہ شکایت رہتی ہے، نہ گِلہ... صرف ایک پُرسکون تنہائی، جو ہر شور سے بہتر لگنے لگتی ہے۔