@asianazeer4: ایک دن حضور صل اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر آرام فرما رہے تھے رات کا وقت تھا چاروں طرف سناٹا اور سکون چھایا ہوا تھا لیٹتے ہی آپ کی آنکھ لگ گئی اور نیند کی حالت میں آپ نے ایک عجیب وغریب خواب دیکھا خواب میں معلوم ہوا کہ حضرت جبرائیل السلام تشریف لائے ہیں ان کے ہاتھ میں ایک نفیس ریشمی رومال تھا حضور صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے جبرائیل آپ کے ہاتھ میں یہ کیا ہے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا یارسول اللہ آپ خود اسے کھول کر دیکھ لیجیے پھر معلوم ہو جائے گا کہ اس میں کیا ہے حضور صل اللہ علیہ وسلم نے وہ رومال لیا اور جیسے ہی کھولا تو دیکھا کہ اس کے اندر ایک چھوٹی سی بچی کا چہرہ ہے آپ نے فوراً پہچان لیا کہ یہ تو میرے عزیز دوست حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی عائشہ رضی اللہ عنہا کا چہرہ ہے آپ نے جبرائیل سے حیرانی سے پوچھا اے جبرائیل مجھے یہ چہرہ کیوں دکھا یا جا رہا ہے اس پر جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ وہی خوش نصیب عورت ہیں جو دنیا اور آخرت میں آپ کی ہمسفر ہوں گی ان کی محبت آپ کی ساری اداسی اور غم دور کر دے گی یہ کہ کر جبرائیل علیہ السلام غائب ہو گئے اور ان کے جاتے ہی آپ کی آنکھ کھل گئی آپ بےچینی کے عالم میں کمرے میں ٹہلنے لگے اور یہ سوچنے لگے کہ ابو بکر کی بیٹی تو ابھی بہت چھوٹی ہے ام رومان انہیں سنبھال بھی نہیں پاتی وہ تو پورا دن کھیل کود میں گزار دیتی ہیں ایسی ننھی بچی بھلا میری بیوی کیسے بن سکتی ہے #الھم_صلی_علی_محمد_وال_محمد #@For You