@_ainheals: "سب ہی تو کرتے ہیں..." شاید یہ چھوٹا سا جملہ... آپ کی پوری زندگی برباد کرنے کے لیے کافی ہو۔ جانتے ہیں کیسے؟ گناہ کرنے سے پہلے انسان اکثر یہ نہیں سوچتا کہ "میں اللہ کی نافرمانی کرنے جا رہا ہوں۔" وہ صرف خود کو ایک جملہ کہتا ہے... "بس ایک بار ہی تو ہے..." "اتنا بھی کیا فرق پڑتا ہے..." "سب ہی تو کرتے ہیں..." اور بس... اسی لمحے شیطان جیت جاتا ہے۔ کیونکہ اسے آپ کو گناہ سے محبت کرانے کی ضرورت نہیں پڑتی... وہ صرف آپ کو یہ یقین دلا دیتا ہے کہ " یہ کوئی بڑی بات نہیں۔" یا پھر وہ صرف اتنا کہتا ہے: "تم اکیلے نہیں ہو... سب یہی کر رہے ہیں۔" اور انسان مطمئن ہو جاتا ہے۔ ذرا سوچئے... اگر پورا شہر ایک زہریلا پانی پی رہا ہو... کیا آپ بھی صرف اس لیے پی لیں گے کہ "سب ہی تو پی رہے ہیں؟" اگر پوری کلاس نقل کر رہی ہو... تو کیا نقل اچانک حلال ہو جائے گی؟ اگر ہزار لوگ اندھیری کھائی کی طرف بھاگ رہے ہوں... تو کیا آپ بھی ان کے پیچھے دوڑ پڑیں گے؟ ہرگز نہیں۔ پھر جب بات گناہ کی آتی ہے... تو ہم اکثریت کو دلیل کیوں بنا لیتے ہیں؟ شیطان جانتا ہے... اگر وہ آپ سے کہے: "چلو اللہ کی نافرمانی کرو۔" تو شاید آپ انکار کر دیں۔ اس لیے وہ انداز بدل دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے... "تم اکیلے نہیں ہو... سب یہی کر رہے ہیں۔" اور پھر انسان اپنے ضمیر کو خاموش کر دیتا ہے۔ لیکن ذرا ایک لمحے کے لیے قیامت کا منظر تصور کیجیے۔ آپ اللہ کے سامنے کھڑے ہیں۔ آپ سے پوچھا جاتا ہے: "یہ گناہ کیوں کیا تھا؟" آپ جواب دیتے ہیں: "یا اللہ... سب ہی تو کرتے تھے۔" کیا آپ کو لگتا ہے... یہ جواب قبول ہو جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ وہاں ہر انسان اکیلا ہوگا۔ نہ دوست ساتھ ہوں گے... نہ ٹرینڈ... نہ سوشل میڈیا... نہ وہ لوگ جنہیں دیکھ کر آپ نے خود کو تسلی دی تھی۔ قرآن بتاتا ہے کہ اس دن دوست ایک دوسرے سے جان چھڑا رہے ہوں گے۔ جو آج کہتے تھے... "یار، کچھ نہیں ہوتا..." وہی اس دن ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے ہوں گے کہ "تیرے چکر میں، تیری محفلوں کی وجہ سے میں نے یہ کام کیے ، تو نے مجھے راستے سے ہٹا دیا۔ اور وہ جگری دوست آگے سے مکر جائے گا کہ "میں نے زبردستی تو نہیں کی تھی، تمہارا اپنا دل تھا، تمہارا اپنا تھا۔" اسی لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی خبردار کر دیا: "اور اگر آپ زمین میں بسنے والے اکثر لوگوں کی بات مان لیں گے تو وہ آپ کو اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔ وہ تو صرف گمان کے پیچھے چلتے ہیں۔" (سورۃ الانعام: 116) غور کیجیے... اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ اکثریت ہمیشہ حق پر ہوتی ہے۔ بلکہ خبردار کیا کہ اکثر لوگ انسان کو راستے سے ہٹا بھی سکتے ہیں۔ حق ہمیشہ شور نہیں مچاتا۔ حق اکثر خاموش ہوتا ہے۔ حق ہمیشہ مشہور نہیں ہوتا۔ اور کئی بار... حق پر چلنے والا انسان تنہا بھی ہوتا ہے۔ لیکن یاد رکھئے... اکیلے صحیح راستے پر چلنا، ہجوم کے ساتھ غلط راستے پر چلنے سے کہیں بہتر ہے۔ اس لیے جب بھی دل کہے: "سب ہی تو کرتے ہیں..." تو فوراً اپنے دل سے ایک اور سوال کیجیے: "لیکن کیا میرا رب بھی چاہتا ہے کہ میں یہ کروں؟" کیونکہ قیامت کے دن... آپ سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ لوگ کیا کر رہے تھے۔ آپ سے یہ پوچھا جائے گا کہ... "تم نے کیا کیا؟" اس لیے لوگوں کو معیار نہ بنائیں۔ معیار صرف اللہ کی رضا کو بنائیں۔ اور آج ہی اپنے دل سے یہ جملہ نکال دیں: "سب ہی تو کرتے ہیں۔" اور اس کی جگہ یہ جملہ بسا لیں: "اگر پوری دنیا بھی یہ کرے... تب بھی کیا اللہ اس عمل سے راضی ہوگا؟" شاید یہی ایک سوال... آپ کی دنیا بھی بچا لے... اور آخرت بھی۔ #foryoupage #explorepage #creatorsearchinsights #fyppppppppppppppppppppppp #unfreezemyacount
شیطان ہمیشہ انسان کو بڑے گناہ سے شروع نہیں کرواتا وہ پہلے اسے یہ یقین دلاتا ہے کہ یہ چھوٹا گناہ چھوٹا ہے اس سے کیا ہو گا؟
اس میں کیا ہے؟ سب ہی تو کرتے ہیں۔
پھر آہستہ آہستہ وہ گناہ، گناہ نہیں لگتا معمول لگنے لگتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ یہ نہیں پوچھے گا کہ کتنے لوگ یہ کر رہے تھے؟ بلکہ یہ پوچھے گا کہ تم کیا کر رہے تھے؟
2026-07-23 17:09:31
2
user8237726560357 :
😭
2026-07-23 17:09:45
0
Awan sab✔️ :
❤️❤️❤️
2026-07-23 16:20:37
0
Alhmdulillah💞 :
😖🥀
2026-07-23 17:13:56
0
To see more videos from user @_ainheals, please go to the Tikwm
homepage.