@ayesha0_10: کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی اُس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اُس نے بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی وہ کہیں بھی گیا، لوٹا تو مرے پاس آیا بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی تیرا پہلو، ترے دل کی طرح آباد رہے تجھ پہ گزرے نہ قیامت شبِ تنہائی کی اُس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا رُوح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے جاگ اُٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی ۔ ۔ #1millionviews#parveenshakir#Khushboo#viral#PLEASE . . @TikTok