@asadbinsanaulllah: کسی کی بیٹی کو شادی کے لیے ریجیکٹ کرنے والے باپ کی تکلیف نہیں جانتے… لوگ صرف اتنا دیکھتے ہیں کہ ایک رشتہ آیا اور بات نہ بن سکی، مگر کوئی اس باپ کے دل میں نہیں جھانکتا جو خاموشی سے اپنی بیٹی کی آنکھوں میں اُترتی ہوئی اداسی دیکھتا ہے۔ وہ ہر بار خود کو مضبوط ظاہر کرتا ہے، مگر اندر ہی اندر ہزار بار ٹوٹتا ہے۔ اسے یہ فکر نہیں ہوتی کہ لوگ کیا کہیں گے، اسے تو صرف یہ درد کھائے جاتا ہے کہ اس کی بیٹی خود کو کسی کمی کا شکار نہ سمجھنے لگے۔ ہر انکار کے بعد وہ بیٹی کے چہرے پر مسکراہٹ ڈھونڈتا ہے، مگر رات کی تنہائی میں اپنے رب سے آنسوؤں کے ساتھ دعا کرتا ہے کہ اس کی بیٹی کے نصیب میں ایسا ہمسفر لکھ دے جو اسے عزت، محبت اور سکون دے۔ بیٹی کو رد کرنا صرف ایک رشتہ ختم کرنا نہیں ہوتا، بعض اوقات یہ ایک باپ کے دل پر ایسا زخم چھوڑ جاتا ہے جو برسوں تک نہیں بھرتا۔ اللہ ہر بیٹی کے نصیب بہترین کرے اور ہر باپ کے دل کو سکون عطا فرمائے۔ آمین۔