@meerab7041: جنہیں تم حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہو ، اگر وہ اللہ کے لاڈلے ہوئے تو پھر ؟ #fyp #foryoupageofficiall #urdupoetry #unfrezzmyaccount #fyppppppppppppppppppppppp
•┈┈••✾•🌿🌺🌿•✾••┈┈•
*_کون کہتا ہے کہ خدا نظر نہیں آتا؟؟_*
*_ایک وہی تو نظر اتا ہے جب کوئی نظر نہیں آتا._*
2026-08-01 17:21:26
85
edward azad :
"یہ کلام تصوف کی زبان میں لکھا گیا ہے، جہاں 'خدا کو انسان میں دیکھنا' کا مطلب حلول نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہر مخلوق اللہ کی صفات کا آئینہ/مظہر ہے (تجلی)۔ لفظی معنی میں لیں تو واقعی مسئلہ بن سکتا ہے، اسی لیے صوفیانہ اشعار کو سمجھنے کے لیے سیاق و سباق اور اہلِ علم کی رہنمائی ضروری ہے۔"
2026-07-27 14:08:03
120
🇵🇰 𝕄𝕖𝕙𝕒𝕣 𝔸𝕣𝕤𝕝𝕒𝕟 :
اہل علم والے ہی اس کلام کو سمجھ سکتے ہیں
2026-07-28 02:31:21
77
SAHII :
Beshak
2026-09-08 13:14:49
2
egoissue :
اور پھر وقت نے کچی عمر میں سمجھا دیا
کے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اپنا نہیں ہوتا 🙌💯
2026-07-25 07:48:03
102
★tahiR🐎 :
یہ ہرگز بھی شرکیہ الفاظ نہیں ہیں ان کا اصل مطلب یہ ہے۔۔
"خدا کو ہم نے بے پردہ اسی کی ذات میں دیکھا
کہیں وہ نور بن کر تھا کہیں انسان میں دیکھا"
یعنی جب انسان کو حقیقی معرفت اور عشقِ الٰہی حاصل ہو جاتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت، رحمت اور نشانیاں ہر طرف نظر آتی ہیں۔ کہیں اللہ کی تجلی نور کی صورت میں محسوس ہوتی ہے اور کہیں اس کی صفات انسانوں کے اچھے اخلاق، محبت، رحم اور عدل میں جھلکتی ہیں۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اللہ انسان بن جاتا ہے، بلکہ یہ کہ انسان میں اللہ کی قدرت اور صفات کی جھلک نظر آتی ہے۔
"جو پردہ تھا نگاہوں پر وہ عشق نے ہٹا ڈالا"
یعنی اللہ کی محبت اور سچا عشق انسان کے دل و دماغ سے غفلت کا پردہ ہٹا دیتا ہے۔ پھر انسان دنیا کی ہر چیز میں اللہ کی قدرت، حکمت اور نشانیاں دیکھنے لگتا ہے🙏۔
2026-08-01 15:28:12
25
Urooj Safder :
یہ ہرگز بھی شرکیہ الفاظ نہیں ہیں ان کا اصل مطلب یہ ہے۔۔
"خدا کو ہم نے بے پردہ اسی کی ذات میں دیکھا
کہیں وہ نور بن کر تھا کہیں انسان میں دیکھا"
یعنی جب انسان کو حقیقی معرفت اور عشقِ الٰہی حاصل ہو جاتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت، رحمت اور نشانیاں ہر طرف نظر آتی ہیں۔ کہیں اللہ کی تجلی نور کی صورت میں محسوس ہوتی ہے اور کہیں اس کی صفات انسانوں کے اچھے اخلاق، محبت، رحم اور عدل میں جھلکتی ہیں۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اللہ انسان بن جاتا ہے، بلکہ یہ کہ انسان میں اللہ کی قدرت اور صفات کی جھلک نظر آتی ہے۔
"جو پردہ تھا نگاہوں پر وہ عشق نے ہٹا ڈالا"
یعنی اللہ کی محبت اور سچا عشق انسان کے دل و دماغ سے غفلت کا پردہ ہٹا دیتا ہے۔ پھر انسان دنیا کی ہر چیز میں اللہ کی قدرت، حکمت اور نشانیاں دیکھنے لگتا ہے۔
2026-08-12 10:56:45
5
Shehzada Haris :
Allah Ki zat Ka Aks To har jaga nazar ata hy 🥰❤️
2026-07-24 21:35:08
55
💕⃝🕊️ بنت حوا 💕⃝🕊️ :
ہر انسان اپنے اندر پوری کائنات لیے بیٹھا انسان خود اس بات سے بے خبر ہے کہ اصل میں وہ ہے کیا جو جان گیا وہ فلاح پا گیا ❤️🎊
2026-07-29 16:37:32
9
silent bee 🐝 :
ye main suba sy sunn rahi houn , bar bar sunti houn,
2026-07-29 19:30:01
5
👑H Queen👑 :
Allah jan like karty jao sab❤
2026-07-30 20:12:46
28
imranalilashari64 :
صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم
2026-07-31 10:27:37
14
𝒲𝒶𝓇𝒹𝒶𝒽 𝑀𝓊𝑔𝒽𝒶𝓁 💌💗 :
Mola salamt rakhy Ge🥰🙂
2026-07-25 06:45:23
21
پنڈاں آلے :
Beshak
2026-09-07 05:01:21
1
Itx-خان-zAdi👑 :
اہل علم والے ہی اس کلام کو سمجھ سکتے ہیں
2026-08-06 12:57:18
12
Khadija Cheema :
:معافی غلطیوں کی ہوتی ہے اذیتوں کی نہیں
اذیتوں کا حساب ہوتا ہے 🥺🥺
2026-08-01 17:43:38
6
raufi :
beshek 💯❤️❤️❤️❤️❤️
2026-07-25 15:33:14
5
Syeda bini qureshi :
Beshaq
2026-07-25 06:48:09
7
AYZAL....🫠 :
اس میں کوئی شرک نہیں ہے عشق انسان کو لگ جاتا ہے تب سمجھ آجاتی ہے عشق میں شرک نہیں ہوتی یہ بولتا ہے کہ جب انسان کے دل میں اللہ کی محبت عشق پیدا ہوتی ہے تو اس کی نظر بدل جاتی ہے پھر وہ دنیا کی ہر چیز دریا صحرا انسان میں اللہ کی قدرت حکمت اور نشانیاں دیکھتا ہے پہلے جو پردہ غفلت تھا وہ ہٹ جاتا ہے اور انسان کو ہر چیز میں اللہ کی پہچان نظر آتی ہے لیکن صحیح عقیدہ یہ ہے
اللہ خود مخلوق کے اندر موجود نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر چیز اللہ بن جاتی ہے مطلب ہر چیز اللہ کی بنائی ہوئی ہے اور اس میں اس کی قدرت کا اثر نظر آتا ہے یہ شاعری ہر چیز میں اللہ کی نشانیاں دیکھنے کی بات کرتی ہے نہ کہ ہر چیز کو اللہ ماننے کی۔
2026-07-30 06:33:17
10
Muhammad Abbas :
MashaAllah ❤️
2026-07-25 21:14:29
5
mano :
beshaq 💯
2026-07-26 04:18:30
7
Usman Ahmed Warsi :
2026-07-24 19:31:20
8
Gujjar🤫 :
l♥️🍂:یہ ہرگز بھی شرکیہ الفاظ نہیں ہیں ان کا اصل مطلب یہ ہے۔۔
"خدا کو ہم نے بے پردہ اسی کی ذات میں دیکھا
کہیں وہ نور بن کر تھا کہیں انسان میں دیکھا"
یعنی جب انسان کو حقیقی معرفت اور عشقِ الٰہی حاصل ہو جاتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت، رحمت اور نشانیاں ہر طرف نظر آتی ہیں۔ کہیں اللہ کی تجلی نور کی صورت میں محسوس ہوتی ہے اور کہیں اس کی صفات انسانوں کے اچھے اخلاق، محبت، رحم اور عدل میں جھلکتی ہیں۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اللہ انسان بن جاتا ہے، بلکہ یہ کہ انسان میں اللہ کی قدرت اور صفات کی جھلک نظر آتی ہے۔
"جو پردہ تھا نگاہوں پر وہ عشق نے ہٹا ڈالا"
یعنی اللہ کی محبت اور سچا عشق انسان کے دل و دماغ سے غفلت کا پردہ ہٹا دیتا ہے۔ پھر انسان دنیا کی ہر چیز میں اللہ کی قدرت، حکمت اور نشانیاں دیکھنے لگتا ہے۔♥️🍂
2026-08-10 16:48:42
5
To see more videos from user @meerab7041, please go to the Tikwm
homepage.