اس نے پوری کائنات میں گونج پیدا کرتی ارشاد ہوا یعنی بے شک میں زمین پر اپنا ایک خلیفہ یعنی نائب بنانے والا ہوں یہ اعلان ہم سنتے ہیں فرشتوں کے دلوں میں ایک خوف اور حیرت کی لہر دوڑ گئی انہوں نے فورا ایک ایسا سوال کیا جو اج بھی انسان کی عقل کو حیران کر دیتا ہے انہوں نے عرض کی کیا تو زمین پر اسے بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گا ذرا رکیے اور اس سوال پر غور کیجئے فرشتے غیب کا علم نہیں جانتے پھر انہیں کیسے معلوم تھا کہ انسان جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوا وہ زمین پر جا کر فساد کرے گا اور خون بہائے گا علمائے تفسیر فرماتے ہیں کہ فرشتوں نے یہ کوئی پیشگوئی نہیں کی تھی انہوں نے یہ بات اپنے تلخ ماضی کے تجربے کی بنیاد پر کہی تھی کیونکہ انہوں نے انسانوں سے پہلے زمین پر ایک ایسی خوفناک تاریخ دیکھی تھی جس نے زمین کے سینے کو خون سے بھر دیا تھا وہ کون تھے جو ادم علیہ السلام سے بھی پہلے اس زمین پر اباد تھے اج ہم اس تاریخ دور میں اتریں گے جب زمین پر انسان کا نام و نشان بھی نہیں تھا یہ کہانی ہماری تاریخ سے بہت پہلے کی ہے جب زمین نوجوان تھی پہاڑ ابھی نئے تھے سمندر گہرے نیلے تھے اور فضا میں کوئی الودگی نہیں تھی قران اور احادیث کے مطابق اللہ تعالی نے انسانوں کو مٹی سے پیدا کیا اور ان سے پہلے جنات کو اگ کے شعلے سے پیدا کیا لیکن مشہور مفسر علامہ ابن کثیر رحمت اللہ علیہ اور امام طبری رحمۃ اللہ علیہ اپنی تاریخ کی کتابوں میں ایک اور حیران کن مخلوق کا ذکر کرتے ہیں کہا جاتا ہے کہ جنات سے بھی پہلے زمین پر کچھ اور قومیں اباد تھیں ان کے نام تھے ان اور بن اور کچھ روایات میں دن اور رم کا بھی ذکر ملتا ہے یہ ہند اور بن کون تھے ان کی حقیقت کے بارے میں روایات مختلف ہیں کچھ کا ماننا ہے کہ یہ ابتدائی جنات کی قسمیں تھیں اور کچھ کے نزدیک یہ اگ پانی اور مٹی کی ایک مختلف مخلوق تھی لیکن ایک بات طے ہے کہ ان کے پاس بھی ان انسانوں کی طرح ارادہ یعنی پری ل اور عقل موجود تھی انہوں نے زمین پر اپنی عظیم الشان سلطنتیں قائم کیں انہوں نے بستیاں بسائیں ابادیاں بنائیں اور ہزاروں سال تک اس زمین پر حکمرانی کی یہ وہ دور تھا جب زمین پر کوئی انسان نہیں تھا صرف یہ عجیب الخلقت مخلوقات اپنے محلات تعمیر کرتی تھی اور اپنے بادشاہ بنا دی تھیں لیکن جہاں ارادہ ہوتا ہے وہاں تک اپ اور بھی ا جاتا ہے