@viralreels222: Episodio 19

ViralReels
ViralReels
Open In TikTok:
Region: MX
Friday 24 July 2026 21:40:13 GMT
21968
541
2
11

Music

Download

Comments

beauty123446
itzdefonotaudz :
ooo
2026-07-26 16:17:24
1
user5423742281212marilu
Marilú :
montoneros, cobardes y abusivos!!! 😡😡😡
2026-07-26 17:19:49
2
To see more videos from user @viralreels222, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

لعنت ہو اے مرد تیری مردانگی پر جو معصومیت سے بھی جنگ کرے جو اٹھارہ ماہ کی کلی کو بھی اپنی ہوس کی آگ میں جھلسا دے۔ وہ تو ابھی لفظوں سے ناواقف تھی، اسے دنیا کے رنگ کہاں معلوم تھے، اس کے ننھے ہاتھ تو ماں کی انگلی تھامنے کے لیے تھے، اس کی آنکھوں میں تو صرف خوابوں کی روشنی تھی۔ اے ظالم! تو نے کس طاقت کا دعویٰ کیا؟ کیا ایک بےبس بچی پر ظلم کرنا مردانگی کہلاتا ہے؟ نہیں! یہ مردانگی نہیں، یہ انسانیت کی شکست ہے، ضمیر کی موت ہے، اور حیوانیت سے بھی بدتر چہرہ ہے۔ مرد وہ نہیں جو کمزور کو روند دے، مرد وہ ہے جو کمزور کی حفاظت کرے، جو ماں کی گود کا احترام کرے، جو بچی کو اپنی امان سمجھے، جو عورت کو عزت دے، اور ظلم کے سامنے دیوار بن جائے۔ اٹھارہ ماہ کی وہ بچی شاید بول نہ سکی، مگر اس کی خاموش چیخ آسمان تک ضرور پہنچی ہوگی۔ اس کے آنسو زمین پر نہیں گرے ہوں گے، وہ انسانیت کے ضمیر پر گرے ہیں۔ اے معاشرے! کب تک خاموش رہو گے؟ کب تک درندوں کو مرد کا نام دیتے رہو گے؟ کب تک مظلوم کی آواز دیواروں میں دفن ہوتی رہے گی؟ اس بچی کے لیے آواز اٹھاؤ، ہر معصوم کے لیے آواز اٹھاؤ، ایسا معاشرہ بناؤ جہاں بچپن محفوظ ہو، جہاں بیٹی خوف کے بغیر ہنس سکے، جہاں دروازے امان ہوں، اور انسان، انسان ہونے کا ثبوت دے۔ لعنت ہو اُس مردانگی پر جو حفاظت کے بجائے ظلم بن جائے؛ سلام اُس انسان پر جو ایک معصوم کی حرمت کے لیے دنیا کے سامنے کھڑا ہو جائے۔ #fyp
لعنت ہو اے مرد تیری مردانگی پر جو معصومیت سے بھی جنگ کرے جو اٹھارہ ماہ کی کلی کو بھی اپنی ہوس کی آگ میں جھلسا دے۔ وہ تو ابھی لفظوں سے ناواقف تھی، اسے دنیا کے رنگ کہاں معلوم تھے، اس کے ننھے ہاتھ تو ماں کی انگلی تھامنے کے لیے تھے، اس کی آنکھوں میں تو صرف خوابوں کی روشنی تھی۔ اے ظالم! تو نے کس طاقت کا دعویٰ کیا؟ کیا ایک بےبس بچی پر ظلم کرنا مردانگی کہلاتا ہے؟ نہیں! یہ مردانگی نہیں، یہ انسانیت کی شکست ہے، ضمیر کی موت ہے، اور حیوانیت سے بھی بدتر چہرہ ہے۔ مرد وہ نہیں جو کمزور کو روند دے، مرد وہ ہے جو کمزور کی حفاظت کرے، جو ماں کی گود کا احترام کرے، جو بچی کو اپنی امان سمجھے، جو عورت کو عزت دے، اور ظلم کے سامنے دیوار بن جائے۔ اٹھارہ ماہ کی وہ بچی شاید بول نہ سکی، مگر اس کی خاموش چیخ آسمان تک ضرور پہنچی ہوگی۔ اس کے آنسو زمین پر نہیں گرے ہوں گے، وہ انسانیت کے ضمیر پر گرے ہیں۔ اے معاشرے! کب تک خاموش رہو گے؟ کب تک درندوں کو مرد کا نام دیتے رہو گے؟ کب تک مظلوم کی آواز دیواروں میں دفن ہوتی رہے گی؟ اس بچی کے لیے آواز اٹھاؤ، ہر معصوم کے لیے آواز اٹھاؤ، ایسا معاشرہ بناؤ جہاں بچپن محفوظ ہو، جہاں بیٹی خوف کے بغیر ہنس سکے، جہاں دروازے امان ہوں، اور انسان، انسان ہونے کا ثبوت دے۔ لعنت ہو اُس مردانگی پر جو حفاظت کے بجائے ظلم بن جائے؛ سلام اُس انسان پر جو ایک معصوم کی حرمت کے لیے دنیا کے سامنے کھڑا ہو جائے۔ #fyp

About