@franklinmedrado: Deve dar um alívio, né?

Franklin Medrado
Franklin Medrado
Open In TikTok:
Region: BR
Friday 24 July 2026 23:00:40 GMT
193883
15282
133
588

Music

Download

Comments

furtadonathalia96
Nathalia Furtado :
Eu sou prof do fundamental I então tô acostumada né, aí entrou um aluno novo e na hr de ler a frase eu pedir pra ele ler a seis e a sete e a turma td começou a fazer six seven e o menino ficou assustadíssimo sem entender nada, dps ele explicou q na casa dele é 0 telas e na antiga escola ngm sabia disso kkkkkkkkk n levou uma semana pra ele começar a farmar aura 🥲🥲🥲
2026-07-25 03:02:14
106
carvthai
carvkpi :
em casa tenho 4 17 anos 11 anos 7 anos e o de 3 anos nenhum sabe nada sobre isso kkkkk me sinto previlegiadaaa
2026-07-25 02:42:18
501
arteevida23
Adecléia Rodrigues :
Ainda não conhecia o pai, pensei que a mãe era mãe solo. 😂😂
2026-07-25 00:11:05
365
mauricio.andre45
🎸mauricio🦠 :
kkkkkkk "juro Vey duneida "
2026-07-24 23:07:31
113
monikadarocha
Mônica Rocha :
Eu descobrindo agora que vc era o cara das tretas gospel 😳😳😳😳😳
2026-07-27 21:09:21
18
giuuliannac
Giulianna Calegari 🐼 :
Só farma aura quem n trabalha das six da manhã as seven da noite 😂
2026-07-25 02:30:24
10
jubaport
Jules :
"duneida" dói mais
2026-07-25 02:31:14
48
crisdanjo
❤️crisdanjo❤️💐 :
graças a Deus a minha filha de 14 anos acha rucuculo isso 🙌
2026-07-28 01:40:10
5
monnypereira2
monny pereira 🌹 :
diálogos modernos são difíceis demais de decifrar 😂😂😂😂
2026-07-25 00:48:45
24
vdeos.do.cap
Templates Capcut :
Passei a maior vergonha 🫣 no supermercado a moça disse que deu 67 reais, e meus meninos arrumaram uma bagunça! "nossa a mamãe farmou aura demais, six seveeeennn!" 😳😳😳
2026-07-25 11:56:27
36
josefaclecia438
Clécia lima :
Esse negócio de farmá aura ta passando dos limites
2026-07-24 23:31:11
18
janapereira282
Jana Pereira :
meu filho acha ridículo demais isso graças a Deus 😂😂😂😂
2026-07-27 01:42:31
16
hellen.christian.alves
Hellen :
Tá tendo uma onda dessa de formar "aura" que eu tô por fora, tenho um adolescente de 16 anos e ele nem inventa dessas coisas. obs." ele sabe a mãe que tem" Perguntei pra ele que se eu fosse um jogador de futebol qual eu seria, ele me respondeu que eu seria o Pulgar do flamengo, então tá tudo certo.
2026-07-25 04:52:01
8
gekm34
Geisy Kelly :
minhas filhas fazem pra zoar minha cara
2026-07-25 00:52:33
12
fergpre
Teacher Fernanda Gurgel :
A mãe é mais apavorada que o pai
2026-07-25 03:44:02
10
martaliberato311gmail.co
Marta Liberato :
Graças a Deus, meu filhos estão bem mentalmente 🙌🙏eu entendo 😜
2026-07-24 23:42:29
17
detricia7
Detrícia'E :
que isso não chegue a Moçambique pelo amor de Deus
2026-07-25 07:18:29
7
henrique.lago7
Henrique Lago :
a família completa,Amei
2026-07-25 01:43:28
6
ilma.gondim5
Ilma Gondim :
Tradução, por favor.😂😂
2026-07-25 02:14:48
6
dianedias1990
Diane Dias ❤️ :
Minha filha sendo uma adolescente adiantada e odiando esse farmar aura igual a mim 😅😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂
2026-07-29 17:51:50
2
clau.von
Claudinha :
Entendi nada🤣
2026-07-25 19:36:43
2
jennifermoratorio
Jennifer S. Moratorio :
Kkkkkkkkkkkkkkkkkkkk tô com medo pelo meu afilhado 😂😂😂😂
2026-07-25 02:45:53
2
lilia.regina.a.ss
Lilia Regina A. Sena Santos :
Finalmente o pai apareceu. 😁
2026-07-27 01:03:04
1
andressacarololiveira
Andressa :
🤣😂Kkkk
2026-07-24 23:52:35
1
To see more videos from user @franklinmedrado, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

نیپال میں تباہ کن سیلاب: گلیشیئر  ٹوٹنے سے چند منٹوں میں دریا بپھر گئے نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب آنے والا تباہ کن سیلاب محض ایک معمول کا سیلاب نہیں تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ گلیشیئر کی برف، چٹان، مٹی، تلچھٹ اور پانی کے ایک انتہائی خطرناک امتزاج کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق نیپال کے ضلع راسووا میں تقریباً 5,200 میٹر کی بلندی پر موجود گلیشیئر کا نچلا حصہ ٹوٹ کر تقریباً 1,200 میٹر نیچے وادی میں جا گرا۔ اس کے ساتھ بڑی مقدار میں چٹان، مٹی اور تلچھٹ بھی نیچے آئی، جس نے برفانی و چٹانی تودے کو دیکھتے ہی دیکھتے ایک انتہائی طاقتور سیلابی ریلے میں تبدیل کر دیا۔ سیٹلائٹ تصاویر تباہی کی شدت کو واضح کرتی ہیں۔ جو پہاڑی ڈھلوانیں صرف ایک روز پہلے سبز اور برف سے ڈھکی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں، وہ اگلے ہی روز بھورے ملبے، کیچڑ اور تلچھٹ کے نیچے دفن نظر آئیں۔ ماہرین نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ تباہی سے چند منٹ قبل آنے والے زلزلے نے گلیشیئر کے ٹوٹنے یا برفانی تودے کو حرکت میں لانے میں کردار ادا کیا ہو، تاہم اس کی حتمی تصدیق ابھی باقی ہے۔ ایک اور اہم مشاہدہ یہ ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر میں سانحے سے قبل تقریباً 24 گھنٹوں کے دوران برف پگھلنے کے واضح آثار دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ درجۂ حرارت اور موسمی حالات بھی اس واقعے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ صرف موسمیاتی تبدیلی ہی اس سانحے کی بنیادی وجہ تھی۔ سیلاب نے Lhende River کے نظام کو متاثر کیا اور پانی، برف، بڑے پتھروں اور تلچھٹ کا ایک طاقتور ریلا نیچے کی طرف بہہ نکلا۔ اس کے اثرات Bhote Koshi اور Trishuli دریائی نظام تک پہنچے، جہاں Galchhi کے علاقے میں پانی کی سطح کے صرف 30 منٹ میں تقریباً 9 میٹر تک بلند ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ یہ سانحہ اس لیے بھی انتہائی تشویشناک ہے کہ متاثرہ پہاڑی علاقے میں کئی ہائیڈرو پاور منصوبے موجود ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ حتمی جانی نقصان اب تک ملنے والی لاشوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے، جبکہ سینکڑوں افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اصل خطرہ صرف سیلاب نہیں ہمالیہ میں بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات قدرتی آفات کی نوعیت کو بھی تبدیل کر رہے ہیں۔ گلیشیئر سکڑ رہے ہیں، پہاڑی ڈھلوانیں اور برفانی جھیلیں زیادہ غیر مستحکم ہو سکتی ہیں، جبکہ شدید بارش، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے اور اچانک آنے والے سیلاب ایک دوسرے کو متحرک کرکے بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق نیپال کے برف پوش پہاڑ گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے میں اپنے برفانی ذخیرے کا تقریباً ایک تہائی حصہ کھو چکے ہیں۔ ہندوکش ہمالیہ کا خطہ پہلے ہی سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودوں اور خشک سالی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ اس سانحے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ پہاڑی علاقوں میں پانی کا خطرہ صرف بارش سے پیدا نہیں ہوتا۔ گلیشیئر کا ٹوٹنا، برف کا تیزی سے پگھلنا، زلزلہ، لینڈ سلائیڈنگ اور دریاؤں کا بدلتا ہوا بہاؤ چند منٹوں میں مل کر ایسی تباہی پیدا کر سکتے ہیں جس کا اندازہ روایتی موسمی پیش گوئی سے لگانا انتہائی مشکل ہے۔ ہمالیہ صرف برف کے پہاڑ نہیں بلکہ ایشیا کے ایک بڑے حصے کے لیے پانی کا بنیادی ذخیرہ ہیں۔ اگر ان کے برفانی نظام میں تبدیلی کی رفتار مزید تیز ہوتی رہی تو اس کے اثرات صرف نیپال یا تبت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور پورے جنوبی ایشیا کے دریائی نظام، زراعت، آبادیوں اور پانی کی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ نیپال کا یہ سانحہ ایک واضح انتباہ ہے کہ بدلتے ہوئے ہمالیائی ماحول کو سمجھنا، گلیشیئرز کی مسلسل نگرانی کرنا اور پہاڑی دریاؤں کے لیے جدید Early Warning Systems قائم کرنا اب کسی ایک ملک کی ذمہ داری نہیں۔ یہ پورے خطے کی مشترکہ ضرورت ہے۔ نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب آنے والے تباہ کن فلیش فلڈ نے ایک بار پھر دنیا کو ہمالیہ کے بدلتے ہوئے ماحولیاتی نظام کے خطرات سے آگاہ کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک گلیشیئر کا نچلا حصہ ٹوٹ کر ہزاروں میٹر کی بلندی سے وادی میں جا گرا، جس کے نتیجے میں برف، چٹان، مٹی، تلچھٹ اور پانی کا ایک انتہائی طاقتور ریلا پیدا ہوا۔ زلزلہ، برف کا تیزی سے پگھلنا اور دیگر ماحولیاتی عوامل بھی اس واقعے میں ممکنہ طور پر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ سانحہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمالیہ میں قدرتی خطرات چند منٹوں میں ایک دوسرے سے جڑ کر تباہ کن سیلاب میں تبدیل ہو سکتے ہیں، اور ان کے اثرات نیپال سے کہیں آگے پورے جنوبی ایشیا کے دریاؤں، زراعت اور پانی کی سلامتی تک پہنچ سکتے ہیں۔ #NepalFlood #NepalFlashFlood #GlacierCollapse #GlacialFlood #Himalayas
نیپال میں تباہ کن سیلاب: گلیشیئر ٹوٹنے سے چند منٹوں میں دریا بپھر گئے نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب آنے والا تباہ کن سیلاب محض ایک معمول کا سیلاب نہیں تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ گلیشیئر کی برف، چٹان، مٹی، تلچھٹ اور پانی کے ایک انتہائی خطرناک امتزاج کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق نیپال کے ضلع راسووا میں تقریباً 5,200 میٹر کی بلندی پر موجود گلیشیئر کا نچلا حصہ ٹوٹ کر تقریباً 1,200 میٹر نیچے وادی میں جا گرا۔ اس کے ساتھ بڑی مقدار میں چٹان، مٹی اور تلچھٹ بھی نیچے آئی، جس نے برفانی و چٹانی تودے کو دیکھتے ہی دیکھتے ایک انتہائی طاقتور سیلابی ریلے میں تبدیل کر دیا۔ سیٹلائٹ تصاویر تباہی کی شدت کو واضح کرتی ہیں۔ جو پہاڑی ڈھلوانیں صرف ایک روز پہلے سبز اور برف سے ڈھکی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں، وہ اگلے ہی روز بھورے ملبے، کیچڑ اور تلچھٹ کے نیچے دفن نظر آئیں۔ ماہرین نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ تباہی سے چند منٹ قبل آنے والے زلزلے نے گلیشیئر کے ٹوٹنے یا برفانی تودے کو حرکت میں لانے میں کردار ادا کیا ہو، تاہم اس کی حتمی تصدیق ابھی باقی ہے۔ ایک اور اہم مشاہدہ یہ ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر میں سانحے سے قبل تقریباً 24 گھنٹوں کے دوران برف پگھلنے کے واضح آثار دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ درجۂ حرارت اور موسمی حالات بھی اس واقعے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ صرف موسمیاتی تبدیلی ہی اس سانحے کی بنیادی وجہ تھی۔ سیلاب نے Lhende River کے نظام کو متاثر کیا اور پانی، برف، بڑے پتھروں اور تلچھٹ کا ایک طاقتور ریلا نیچے کی طرف بہہ نکلا۔ اس کے اثرات Bhote Koshi اور Trishuli دریائی نظام تک پہنچے، جہاں Galchhi کے علاقے میں پانی کی سطح کے صرف 30 منٹ میں تقریباً 9 میٹر تک بلند ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ یہ سانحہ اس لیے بھی انتہائی تشویشناک ہے کہ متاثرہ پہاڑی علاقے میں کئی ہائیڈرو پاور منصوبے موجود ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ حتمی جانی نقصان اب تک ملنے والی لاشوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے، جبکہ سینکڑوں افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اصل خطرہ صرف سیلاب نہیں ہمالیہ میں بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات قدرتی آفات کی نوعیت کو بھی تبدیل کر رہے ہیں۔ گلیشیئر سکڑ رہے ہیں، پہاڑی ڈھلوانیں اور برفانی جھیلیں زیادہ غیر مستحکم ہو سکتی ہیں، جبکہ شدید بارش، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے اور اچانک آنے والے سیلاب ایک دوسرے کو متحرک کرکے بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق نیپال کے برف پوش پہاڑ گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے میں اپنے برفانی ذخیرے کا تقریباً ایک تہائی حصہ کھو چکے ہیں۔ ہندوکش ہمالیہ کا خطہ پہلے ہی سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودوں اور خشک سالی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ اس سانحے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ پہاڑی علاقوں میں پانی کا خطرہ صرف بارش سے پیدا نہیں ہوتا۔ گلیشیئر کا ٹوٹنا، برف کا تیزی سے پگھلنا، زلزلہ، لینڈ سلائیڈنگ اور دریاؤں کا بدلتا ہوا بہاؤ چند منٹوں میں مل کر ایسی تباہی پیدا کر سکتے ہیں جس کا اندازہ روایتی موسمی پیش گوئی سے لگانا انتہائی مشکل ہے۔ ہمالیہ صرف برف کے پہاڑ نہیں بلکہ ایشیا کے ایک بڑے حصے کے لیے پانی کا بنیادی ذخیرہ ہیں۔ اگر ان کے برفانی نظام میں تبدیلی کی رفتار مزید تیز ہوتی رہی تو اس کے اثرات صرف نیپال یا تبت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور پورے جنوبی ایشیا کے دریائی نظام، زراعت، آبادیوں اور پانی کی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ نیپال کا یہ سانحہ ایک واضح انتباہ ہے کہ بدلتے ہوئے ہمالیائی ماحول کو سمجھنا، گلیشیئرز کی مسلسل نگرانی کرنا اور پہاڑی دریاؤں کے لیے جدید Early Warning Systems قائم کرنا اب کسی ایک ملک کی ذمہ داری نہیں۔ یہ پورے خطے کی مشترکہ ضرورت ہے۔ نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب آنے والے تباہ کن فلیش فلڈ نے ایک بار پھر دنیا کو ہمالیہ کے بدلتے ہوئے ماحولیاتی نظام کے خطرات سے آگاہ کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک گلیشیئر کا نچلا حصہ ٹوٹ کر ہزاروں میٹر کی بلندی سے وادی میں جا گرا، جس کے نتیجے میں برف، چٹان، مٹی، تلچھٹ اور پانی کا ایک انتہائی طاقتور ریلا پیدا ہوا۔ زلزلہ، برف کا تیزی سے پگھلنا اور دیگر ماحولیاتی عوامل بھی اس واقعے میں ممکنہ طور پر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ سانحہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمالیہ میں قدرتی خطرات چند منٹوں میں ایک دوسرے سے جڑ کر تباہ کن سیلاب میں تبدیل ہو سکتے ہیں، اور ان کے اثرات نیپال سے کہیں آگے پورے جنوبی ایشیا کے دریاؤں، زراعت اور پانی کی سلامتی تک پہنچ سکتے ہیں۔ #NepalFlood #NepalFlashFlood #GlacierCollapse #GlacialFlood #Himalayas

About