@am_thought_s: صرف گناہوں سے؟ نہیں... کبھی کبھی وہ انسان کو اُن تمام سہاروں، خواہشوں، تعلقوں، غرور، توقعات اور محبتوں سے بھی پاک کرتا ہے جو اس کے اور بندے کے درمیان دیوار بن چکی ہوتی ہیں۔ وہ ایک ایک کرکے وہ چیزیں چھین لیتا ہے جنہیں ہم اپنی زندگی سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ وہ صرف آزمائش ہوتی ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہماری دنیا بکھر رہی ہے، ہمارے خواب ٹوٹ رہے ہیں، ہماری دعائیں رد ہو رہی ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ہمارے دل کو خالی کر رہا ہوتا ہے تاکہ اس میں اپنی محبت، اپنا سکون اور اپنا نور بھر سکے۔ انسان اکثر اپنے رب سے محبت کا دعویٰ تو کرتا ہے، مگر اس کے دل میں اللہ سے زیادہ جگہ کسی انسان، کسی خواہش، کسی مقام، کسی رشتے یا کسی خواب نے لے رکھی ہوتی ہے۔ پھر اللہ اپنے بندے کو چھوڑتا نہیں، بلکہ محبت سے اس کی تربیت کرتا ہے۔ کبھی کسی عزیز کی جدائی، کبھی کسی خواب کا ٹوٹ جانا، کبھی کسی دعا کا دیر سے قبول ہونا، کبھی مسلسل آزمائشیں... یہ سب ہمیشہ سزا نہیں ہوتیں، کئی بار یہ اللہ کی محبت کا انداز ہوتی ہیں۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر یہ پردے باقی رہے تو اس کا بندہ کبھی اس تک مکمل طور پر نہیں پہنچ سکے گا۔ وہ تمہیں تم سے بھی جدا کرتا ہے۔ تمہارے غرور سے، تمہارے نفس سے، تمہاری انا سے، تمہارے اس یقین سے کہ سب کچھ تمہارے اختیار میں ہے۔ وہ تمہیں اس مقام پر لے آتا ہے جہاں تمہارے پاس صرف ایک دروازہ رہ جاتا ہے، اور وہ دروازہ اسی کا ہوتا ہے۔ جب ساری آوازیں خاموش ہو جائیں، سارے سہارے ٹوٹ جائیں، سارے راستے بند ہو جائیں، تب انسان پہلی بار پورے یقین سے کہتا ہے: "یا اللہ! میرے پاس تیرے سوا کوئی نہیں۔" اور شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب بندہ حقیقت میں پاک ہونا شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ اب اس کے دل میں اللہ کے سوا کوئی شریک نہیں رہتا۔ اب اس کی امید صرف اللہ سے ہوتی ہے، اس کا خوف صرف اللہ سے ہوتا ہے، اس کی محبت کا مرکز صرف اللہ ہوتا ہے۔ یہی وہ پاکیزگی ہے جو وضو سے نہیں، آنسوؤں سے ملتی ہے؛ جو الفاظ سے نہیں، صبر سے پیدا ہوتی ہے؛ جو خوشیوں سے نہیں، آزمائشوں سے حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے اگر کبھی زندگی تم سے وہ چیز چھین لے جسے تم اپنی سب سے بڑی خوشی سمجھتے تھے، تو فوراً یہ نہ سمجھ لینا کہ اللہ تم سے ناراض ہے۔ ممکن ہے وہ تمہیں کسی نقصان سے نہیں، بلکہ اپنے سوا ہر اُس چیز سے پاک کر رہا ہو جو تمہارے اور اس کے درمیان حائل ہو چکی تھی۔ کیونکہ جب اللہ کسی بندے سے خاص محبت کرتا ہے تو وہ اسے دنیا کے سہاروں پر نہیں چھوڑتا، بلکہ اسے اپنے سہارے کا عادی بنا دیتا ہے۔ اور جب بندہ اس مقام پر پہنچ جائے جہاں اسے ہر حال میں صرف اپنے رب کی ذات کافی لگنے لگے، تو سمجھ لو کہ وہ سفرِ محبت کی سب سے خوبصورت منزل تک پہنچ گیا ہے۔#foryoure #viralvideos #foryoupage #followers #everyone
agr woh kisi ko pansd krti hai shaadi ka irada hai to alag kyu krta hai 🥺
2026-07-25 17:50:05
0
♡QU°EE°N♡ :
Allah huakbar
2026-07-25 18:21:45
1
noorulhiya :
byshk AlhamdulliAllah 🫀
2026-07-25 12:27:15
2
Sum Era :
اللہ اتنا پاک ھے کہ جب انسان کو اپنی محبت کے لئے چن لیتا ہے تو اسے پاک کرتا ھے
صرف گناہوں سے؟ نہیں... کبھی کبھی وہ انسان کو اُن تمام سہاروں، خواہشوں، تعلقوں، غرور، توقعات اور محبتوں سے بھی پاک کرتا ہے جو اس کے اور بندے کے درمیان دیوار بن چکی ہوتی ہیں۔ وہ ایک ایک کرکے وہ چیزیں چھین لیتا ہے جنہیں ہم اپنی زندگی سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ وہ صرف آزمائش ہوتی ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہماری دنیا بکھر رہی ہے، ہمارے خواب ٹوٹ رہے ہیں، ہماری دعائیں رد ہو رہی ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ہمارے دل کو خالی کر رہا ہوتا ہے تاکہ اس میں اپنی محبت، اپنا سکون اور اپنا نور بھر سکے۔
انسان اکثر اپنے رب سے محبت کا دعویٰ تو کرتا ہے، مگر اس کے دل میں اللہ سے زیادہ جگہ کسی انسان، کسی خواہش، کسی مقام، کسی رشتے یا کسی خواب نے لے رکھی ہوتی ہے۔ پھر اللہ اپنے بندے کو چھوڑتا نہیں، بلکہ محبت سے اس کی تربیت کرتا ہے۔ کبھی کسی عزیز کی جدائی، کبھی کسی خواب کا ٹوٹ جانا، کبھی کسی دعا کا دیر سے قبول ہونا، کبھی مسلسل آزمائشیں... یہ سب ہمیشہ سزا نہیں ہوتیں، کئی بار یہ اللہ کی محبت کا انداز ہوتی ہیں۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر یہ پردے باقی رہے تو اس کا بندہ کبھی اس تک مکمل طور پر نہیں پہنچ سکے گا۔
وہ تمہیں تم سے بھی جدا کرتا ہے۔ تمہارے غرور سے، تمہارے نفس سے، تمہاری انا سے، تمہارے اس یقین سے کہ سب کچھ تمہارے اختیار میں ہے۔ وہ تمہیں اس مقام پر لے آتا ہے جہاں تمہارے پاس صرف ایک دروازہ رہ جاتا ہے، اور وہ دروازہ اسی کا ہوتا ہے۔ جب ساری آوازیں خاموش ہو جائیں، سارے سہارے ٹوٹ جائیں، سارے راستے بند ہو جائیں، تب انسان پہلی بار پورے یقین سے کہتا ہے: "یا اللہ! میرے پاس تیرے سوا کوئی نہیں۔"
اور شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب بندہ حقیقت میں پاک ہونا شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ اب اس کے دل میں اللہ کے سوا کوئی شریک نہیں رہتا۔ اب اس کی امید صرف اللہ سے ہوتی ہے، اس کا خوف صرف اللہ سے ہوتا ہے، اس کی محبت کا مرکز صرف اللہ ہوتا ہے۔ یہی وہ پاکیزگی ہے جو وضو سے نہیں، آنسوؤں سے ملتی ہے؛ جو الفاظ سے نہیں، صبر سے پیدا ہوتی ہے؛ جو خوشیوں سے نہیں، آزمائشوں سے حاصل ہوتی ہے۔
اس لیے اگر کبھی زندگی تم سے وہ چیز چھین لے جسے تم اپنی سب سے بڑی خوشی سمجھتے تھے، تو فوراً یہ نہ سمجھ لینا کہ اللہ تم سے ناراض ہے۔ ممکن ہے وہ تمہیں کسی نقصان سے نہیں، بلکہ اپنے سوا ہر اُس چیز سے پاک کر رہا ہو جو تمہارے اور اس کے درمیان حائل ہو چکی تھی۔ کیونکہ جب اللہ کسی بندے سے خاص محبت کرتا ہے تو وہ اسے دنیا کے سہاروں پر نہیں چھوڑتا، بلکہ اپنے سہارے کا عادی بنا دیتا ہے او
2026-07-25 15:02:13
1
alhamdulillah :
2026-07-25 13:16:23
2
it's Me :
subhan Allah
2026-07-25 14:01:11
1
حمزہ جٹ ✨🤍 :
subhan Mery Rab 🥰💖
2026-07-25 09:44:57
1
SH@IKH333 :
2026-07-25 19:49:05
0
Palastine in my heart♥️ :
2026-07-25 19:00:20
0
hibanoor342 :
😭😭😭😭😭😭😭😭beshk
2026-07-25 11:32:39
0
naa maloom :
💯💯💯💯 beshaqq mery Sath es waqat esy hee h
2026-07-25 08:51:14
2
Asad 440 :
beshak❤❤
2026-07-25 18:10:40
1
imaginative world :
beshak bohot hi kamal ki tehreer
2026-07-25 22:08:34
0
salmankk470 :
beshk Masha Allah 🥺🥰💗
2026-07-25 18:53:04
0
shoaib Hussain🚩 :
صرف گناہوں سے؟ نہیں. کبھی کبھی وہ انسان کو اُن تمام سہاروں، خواہشوں، تعلقوں، غرور، توقعات اور محبتوں سے بھی پاک کرتا ہے جو اس کے اور بندے کے درمیان دیوار بن چکی ہوتی ہیں۔ وہ ایک ایک کرکے وہ چیزیں چھین لیتا ہے جنہیں ہم اپنی زندگی سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ وہ صرف آزمائش ہوتی ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہماری دنیا بکھر رہی ہے، ہمارے خواب ٹوٹ رہے ہیں، ہماری دعائیں رد ہو رہی ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ہمارے دل کو خالی کر رہا ہوتا ہے تاکہ اس میں اپنی محبت، اپنا سکون اور اپنا نور بھر سکے۔
انسان اکثر اپنے رب سے محبت کا دعویٰ تو کرتا ہے، مگر اس کے دل میں اللہ سے زیادہ جگہ کسی انسان، کسی خواہش، کسی مقام، کسی رشتے یا کسی خواب نے لے رکھی ہوتی ہے۔ پھر اللہ اپنے بندے کو چھوڑتا نہیں، بلکہ محبت سے اس کی تربیت کرتا ہے۔ کبھی کسی عزیز کی جدائی، کبھی کسی خواب کا ٹوٹ جانا، کبھی کسی دعا کا دیر سے قبول ہونا، کبھی مسلسل آزمائشیں... یہ سب ہمیشہ سزا نہیں ہوتیں، کئی بار یہ اللہ کی محبت کا انداز ہوتی ہیں۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر یہ پردے باقی رہے تو اس کا بندہ کبھی اس تک مکمل طور پر نہیں پہنچ سکے گا۔
وہ تمہیں تم سے بھی جدا کرتا ہے۔ تمہارے غرور سے، تمہارے نفس سے، تمہاری انا سے، تمہارے اس یقین سے کہ سب کچھ تمہارے اختیار میں ہے۔ وہ تمہیں اس مقام پر لے آتا ہے جہاں تمہارے پاس صرف ایک دروازہ رہ جاتا ہے، اور وہ دروازہ اسی کا ہوتا ہے۔ جب ساری آوازیں خاموش ہو جائیں، سارے سہارے ٹوٹ جائیں، سارے راستے بند ہو جائیں، تب انسان پہلی بار پورے یقین سے کہتا ہے: "یا اللہ! میرے پاس تیرے سوا کوئی نہیں۔"
اور شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب بندہ حقیقت میں پاک ہونا شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ اب اس کے دل میں اللہ کے سوا کوئی شریک نہیں رہتا۔ اب اس کی امید صرف اللہ سے ہوتی ہے، اس کا خوف صرف اللہ سے ہوتا ہے، اس کی محبت کا مرکز صرف اللہ ہوتا ہے۔ یہی وہ پاکیزگی ہے جو وضو سے نہیں، آنسوؤں سے ملتی ہے؛ جو الفاظ سے نہیں، صبر سے پیدا ہوتی ہے؛ جو خوشیوں سے نہیں، آزمائشوں سے حاصل ہوتی ہے۔
اس لیے اگر کبھی زندگی تم سے وہ چیز چھین لے جسے تم اپنی سب سے بڑی خوشی سمجھتے تھے، تو فوراً یہ نہ سمجھ لینا کہ اللہ تم سے ناراض ہے۔ ممکن ہے وہ تمہیں کسی نقصان سے نہیں، بلکہ اپنے سوا ہر اُس چیز سے پاک کر رہا ہو جو تمہارے اور اس کے درمیان حائل ہو چکی تھی۔ کیونکہ جب اللہ کسی بندے سے خاص محبت کرتا ہے تو وہ اسے دنیا کے سہاروں پر نہیں چھوڑتا، بلکہ اسے اپنے سہارے کا عادی بنا دیتا ہے۔ اور جب بندہ اس مقام پر پہنچ جائے جہاں اسے ہر حال میں صرف اپنے رب کی ذات کافی لگنے لگ
2026-07-25 20:32:27
0
ranaozi7 :
JzakAllah 🥰
2026-07-25 18:25:37
2
Alif Ghor :
🥺♥️🥰
Matlab mujhe yaqeen nhi araha aesa lag Raha Kisi ne mere jazbaat or Jo sub horaha woh likhdiya...Itna tou koi sukoon or satisfaction Mili hai isko parh kar...😌🕊️💗🫠🤍
2026-07-25 19:02:40
0
To see more videos from user @am_thought_s, please go to the Tikwm
homepage.