@khakzada370: بیعت کیے بغیر موت جاہلیت کی موت ہے عربی میں بیعت کا معنی بیچنا ہے۔ یعنی بندہ ایک پختہ عہد کے ذریعے اپنی جان و مال کسی کے تابع کر دیتا ہے یعنی ہمیشہ اسی کی اطاعت کرنے کا عہد باندھتا ہے۔ جیسا کہ اللہ نے ارشاد فرمایا: لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو اپنا آپ بیچ ڈالتے ہیں اللہ کی رضا کے لیے اور بیشک اللہ اپنے ان بندوں پر بڑی شفقت والا ہے۔ لہذا معلوم ہوا کہ اللہ کی رضا بیعت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی (البقرة 207) اسی لیے اللہ نے فرمایا: اللہ راضی ہو گیا ان مومنوں سے جنہوں نے درخت کے نیچے آپ ﷺ سے بیعت کی (الفتح 18) اور بیعت تو دراصل اللہ کے ساتھ کی جاتی ہے جیسا فرمان الہی ہے کہ: اے نبی ﷺ جن لوگوں نے آپ سے بیعت کی دراصل انہوں نے اللہ سے بیعت کی۔ ان کے ہاتھ پر آپ کا ہاتھ درحقیقت اللہ کا ہاتھ تھا۔ اب جو اس عہد کو توڑے گا اس کا وبال اس کی اپنی ہی ذات پر ہو گا اور جو اللہ سے کیے عہد سے وفا کرے گا تو اللہ عنقریب اس کو اجر عظیم عطا فرمائے گا (الفتح 10) اس سے یہ معلوم ہوا کہ قیامت تک جو بھی مومن نبی کریم ﷺ اور آپ کی آل کی بیعت میں آ جائے گا وہ اللہ کا بندہ بن جائے گا اور اللہ اس کی جان و مال کو خرید لے گا جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا ہے: یقینا اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں (التوبۃ 111) اور یہی بیعت وہ سعادت ہے جسے کرنے والوں کو اللہ نے قیامت تک یہ بشارت دی ہے کہ: خوشیاں مناؤ اس سودے پر جو تم نے اس سے بیعت کر کے کیا اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے (التوبۃ 111) اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو بھی شخص بیعت کئے بغیر مرا تو وہ جاہلیت کی موت مرا (صحیح مسلم 4794) رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث سے معلوم ہو جاتا ہے کہ: میں تم میں دو ایسی چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہو گے۔ اور یہ دونوں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں۔ اللہ کی کتاب جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی رسی ہے اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں (صحیح مسلم 3788) سو آؤ اہل بیت سے وابستہ ہو جائیں آؤ ان کی اطاعت سے کامیابی پائیں وصلی الله على سيدنا محمد خاتم النبيين والنبأ العظيم وعلى آله وصحبه وازواجه وسلم اجمعين ______________________