Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@unbreakable.soul3: "The Most Unexpected Moment." #dashcam #cardriver #viralvideo
unbreakable soul
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 25 July 2026 19:26:16 GMT
3515
64
0
1
Music
Download
No Watermark .mp4 (
6.22MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
7.31MB
)
Watermark .mp4 (
0MB
)
Music .mp3
Comments
There are no more comments for this video.
To see more videos from user @unbreakable.soul3, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
Không ai cam kết là sẽ yêu mình suốt đời! #podcast #tamsu #tamtrang_camxuc
#quotes #motivasi #lakilaki #hargadiri #keluarga
@Knowunity #abi #bestelernzettel #fyp #school
#gymrat #legging #gymgirl
@Hajra♥️ میلادالنبی ﷺ منانا چاہیے یا نہیں؟ اگر ہاں، تو صحیح طریقہ کیا ہے؟ اس ویڈیو میں ہم جذبات سے نہیں بلکہ قرآن و سنت اور معتبر references کی روشنی میں اس سوال کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو واقعی بہت خاص ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں علم کی صورت میں بہت نور عطا فرماتا ہے۔ یہ اسکرپٹ بھی انہی میں سے ایک شخصیت نے لکھا ہے، میری ٹیچر نے۔ ان کا اکاؤنٹ نیچے مینشن ہے، ایک بار ضرور چیک کیجیے گا۔ آج ہم مسلمان بہت سی باتوں، الجھنوں اور سوالوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ میلاد منانا چاہیے یا نہیں؟ جلوس میں جانا چاہیے یا نہیں؟ یہ بدعت ہے یا نہیں؟ کون صحیح ہے اور کون غلط؟ لیکن ان بحثوں کے درمیان ایک بنیادی سوال کہیں پیچھے رہ گیا ہے: ہم نے اپنے نبی کریم ﷺ کی سیرت کو کتنا پڑھا، سمجھا اور اپنی زندگی میں کتنا اپنایا؟ ہمارے سامنے رسول اللہ ﷺ کی ایک مکمل زندگی موجود ہے، پھر بھی ہم اکثر اس بات پر بحث کرتے رہتے ہیں کہ دوسرا کیا کر رہا ہے، جبکہ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہم خود نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر کتنا عمل کر رہے ہیں۔ سب سے پہلے ایک بات سمجھ لیجیے: نبی کریم ﷺ سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے، لیکن محبت کا سب سے بڑا ثبوت آپ ﷺ کی اتباع ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے: ﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ﴾ ترجمہ: “کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔” (سورۃ آل عمران، 3:31) اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف: کیا میلادالنبی ﷺ منانا جائز ہے؟ اس مسئلے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض علماء نبی کریم ﷺ کی ولادتِ مبارک کے موقع پر سیرت بیان کرنے، درود پڑھنے، نعت کہنے، صدقہ کرنے اور جائز طریقے سے خوشی کا اظہار کرنے کو جائز سمجھتے ہیں، بشرطیکہ اس میں کوئی خلافِ شرع کام شامل نہ ہو۔ جبکہ بعض علماء مخصوص طور پر ہر سال میلاد کی ایک دینی تقریب مقرر کرنے کو بدعت قرار دیتے ہیں، کیونکہ نبی کریم ﷺ، صحابہ کرامؓ اور خلفائے راشدین سے اس مخصوص سالانہ طریقے کا ثبوت نہیں ملتا۔ اس لیے یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے، اور ہمیں اس اختلاف کی وجہ سے ایک دوسرے کو گمراہ، بدعتی یا برا مسلمان کہنے کے بجائے علم، دلیل اور ادب کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔ لیکن ایک بات ایسی ہے جس پر کسی اختلاف کی ضرورت نہیں: نبی کریم ﷺ سے محبت، آپ ﷺ پر درود بھیجنا، آپ ﷺ کی سیرت پڑھنا، آپ ﷺ کی سنت کو سمجھنا اور اپنی زندگی کو آپ ﷺ کے اخلاق کے مطابق بنانے کی کوشش کرنا۔ کیونکہ اگر ہم ربیع الاول میں نبی ﷺ کا ذکر تو کریں، لیکن باقی گیارہ مہینے آپ ﷺ کی تعلیمات کو بھول جائیں، تو ہمیں اپنے دل سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ ہماری محبت صرف الفاظ میں ہے یا واقعی ہماری زندگی میں بھی نظر آتی ہے؟ ہم زبان سے تو نبی کریم ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن کیا ہمارے اخلاق بھی ویسے ہیں؟ آپ ﷺ نے غیبت اور بدزبانی سے منع فرمایا، مگر ہم دوسروں کے پیچھے ان کی برائیاں کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے غصے پر قابو پانا سکھایا، مگر ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنے گھر والوں کے دل دکھا دیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے معاف کرنا سکھایا، مگر ہم برسوں پرانی باتیں دل میں لیے بیٹھے رہتے ہیں اور کہتے ہیں: “میں اسے کبھی معاف نہیں کروں گا۔” پھر ہم دوسروں کو نبی ﷺ کی محبت کا درس دیتے ہیں، لیکن خود اپنے اخلاق کو بدلنے کی کتنی کوشش کرتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ کی سیرت کا ایک واقعہ دیکھیے۔ ایک نوجوان آپ ﷺ کے پاس آیا اور ایک انتہائی غلط کام کی اجازت مانگی۔ صحابہؓ کو اس کی بات ناگوار گزری، لیکن رسول اللہ ﷺ نے اسے سب کے سامنے ذلیل نہیں کیا۔ آپ ﷺ نے اسے اپنے قریب بلایا اور محبت سے سمجھایا: کیا تم یہ اپنی ماں کے لیے پسند کرو گے؟ اس نے کہا: نہیں۔ پھر آپ ﷺ نے بیٹی، بہن اور پھوپھی کے بارے میں پوچھا، اور ہر بار اس نے کہا: نہیں۔ پھر نبی کریم ﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی۔ ذرا سوچیں، اگر ہم وہاں ہوتے تو شاید اسے برا انسان سمجھ کر دور کر دیتے، اسے برا بھلا کہتے اور اس کی برائی ہر جگہ بیان کرتے۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے اسے ایک ایسے انسان کے طور پر دیکھا جسے محبت اور حکمت کے ساتھ سمجھانے کی ضرورت تھی۔ یہی نبوی تربیت تھی: غلطی کو غلط کہنا، لیکن انسان کو اصلاح کا موقع دینا۔ ایک اور واقعہ دیکھیے۔ ایک اعرابی نے مسجد میں پیشاب کر دیا۔ صحابہؓ اسے روکنے کے لیے آگے بڑھے، مگر نبی کریم ﷺ نے انہیں روکا اور فرمایا کہ اسے اپنا کام مکمل کرنے دو۔ پھر آپ ﷺ نے نرمی سے اسے سمجھایا کہ مسجدیں اللہ کے ذکر اور عبادت کے لیے ہیں۔ (صحیح بخاری، 220؛ صحیح مسلم، 284) #viral #foryoupage #taybiivibes #deenurdustories #islamic
#پشتوآهنگ #پشتو @پشتو سونگ 💔 #foryourpage
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy