"یہ کلام تصوف کی زبان میں لکھا گیا ہے، جہاں 'خدا کو انسان میں دیکھنا' کا مطلب حلول نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہر مخلوق اللہ کی صفات کا آئینہ/مظہر ہے (تجلی)۔ لفظی معنی میں لیں تو واقعی مسئلہ بن سکتا ہے، اسی لیے صوفیانہ اشعار کو سمجھنے کے لیے سیاق و سباق اور اہلِ علم کی رہنمائی ضروری ہے۔"
2026-07-26 18:39:04
34
Muhammad Afzaal :
I love you
2026-07-26 23:37:39
1
پنجابن :
:یہ ہرگز بھی شرکیہ الفاظ نہیں ہیں ان کا اصل مطلب یہ ہے۔۔
"خدا کو ہم نے بے پردہ اسی کی ذات میں دیکھا
کہیں وہ نور بن کر تھا کہیں انسان میں دیکھا"
یعنی جب انسان کو حقیقی معرفت اور عشقِ الٰہی حاصل ہو جاتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت، رحمت اور نشانیاں ہر طرف نظر آتی ہیں۔ کہیں اللہ کی تجلی نور کی صورت میں محسوس ہوتی ہے اور کہیں اس کی صفات انسانوں کے اچھے اخلاق، محبت، رحم اور عدل میں جھلکتی ہیں۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اللہ انسان بن جاتا ہے، بلکہ یہ کہ انسان میں اللہ کی قدرت اور صفات کی جھلک نظر آتی ہے۔
"جو پردہ تھا نگاہوں پر وہ عشق نے ہٹا ڈالا"
یعنی اللہ کی محبت اور سچا عشق انسان کے دل و دماغ سے غفلت کا پردہ ہٹا دیتا ہے۔ پھر انسان دنیا کی ہر چیز میں اللہ کی قدرت، حکمت اور نشانیاں دیکھنے لگتا ہے۔
2026-07-27 06:52:10
19
Abdul Basit :
🐣:یہ ہرگز بھی شرکیہ الفاظ نہیں ہیں ان کا اصل مطلب یہ ہے۔۔
"خدا کو ہم نے بے پردہ اسی کی ذات میں دیکھا
کہیں وہ نور بن کر تھا کہیں انسان میں دیکھا"
یعنی جب انسان کو حقیقی معرفت اور عشقِ الٰہی حاصل ہو جاتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت، رحمت اور نشانیاں ہر طرف نظر آتی ہیں۔ کہیں اللہ کی تجلی نور کی صورت میں محسوس ہوتی ہے اور کہیں اس کی صفات انسانوں کے اچھے اخلاق، محبت، رحم اور عدل میں جھلکتی ہیں۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اللہ انسان بن جاتا ہے، بلکہ یہ کہ انسان میں اللہ کی قدرت اور صفات کی جھلک نظر آتی ہے۔
"جو پردہ تھا نگاہوں پر وہ عشق نے ہٹا ڈالا"
یعنی اللہ کی محبت اور سچا عشق انسان کے دل و دماغ سے غفلت کا پردہ ہٹا دیتا ہے۔ پھر انسان دنیا کی ہر چیز میں اللہ کی قدرت، حکمت اور نشانیاں دیکھنے لگتا ہے۔
2026-07-28 03:46:17
2
niazi❣️ :
bahot acha klam hy🌷🌷🌷🌷🌷
2026-07-27 05:03:21
4
moona naeem🤩 :
Allah
2026-07-26 19:25:59
6
Ahsan :
♥️🤲🙏
2026-07-27 04:26:26
6
𝐌𝐢𝐚𝐧 𝐆 🥰😍😎 :
یہ کلام تصوف کی زبان میں لکھا گیا ہے، جہاں 'خدا کو انسان میں دیکھنا' کا مطلب حلول نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہر مخلوق اللہ کی صفات کا آئینہ/مظہر ہے (تجلی)۔ لفظی معنی میں لیں تو واقعی مسئلہ بن سکتا ہے، اسی لیے صوفیانہ اشعار کو سمجھنے کے لیے سیاق و سباق اور اہلِ علم کی رہنمائی ضروری ہے۔"
2026-07-28 10:37:30
1
💫Gull_Noor💫 :
2026-07-27 06:21:59
4
Ahsan :
2026-07-27 04:26:55
3
Ali Imar :
2026-07-27 05:40:45
3
Gul :
Allah
2026-07-27 08:36:26
3
♥‿♥ *Mughal* :
😓😌 بس ایک جملہ اور ہستی انسان فنا
2026-07-26 20:03:54
3
TAsEEn :
2026-07-27 16:54:49
1
Kanwal adnan :
Allah ge love you🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2026-07-27 05:06:40
2
Tariq Aziz Suniyara :
2026-07-27 05:06:31
1
Ahsan_shah :
right 👍
2026-07-27 03:58:18
1
To see more videos from user @sr_music36, please go to the Tikwm
homepage.