@abomajd3030:

ابو ماجد🔹️
ابو ماجد🔹️
Open In TikTok:
Region: SA
Sunday 26 July 2026 07:29:21 GMT
9440
105
10
38

Music

Download

Comments

ahmad707ali8
ابو عادل :
😇😇
2026-07-26 13:26:52
1
mo.alz23
Mo Alz :
الذهب لا يصدأ
2026-07-26 19:46:04
0
user1060099794055
user1060099794055 :
سلام
2026-07-26 09:29:14
0
user3050016451107
user3050016451107 :
🥰🥰🥰
2026-07-26 08:23:36
1
ma_f2022
غريب الدار :
❤️❤️❤️
2026-07-26 15:18:24
1
To see more videos from user @abomajd3030, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

سورۃ البقرہ، آیت 229 اَلطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌۢ بِإِحْسَانٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ  ترجمہ:
سورۃ البقرہ، آیت 229 اَلطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌۢ بِإِحْسَانٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ترجمہ: "طلاق دو مرتبہ ہے، پھر یا تو بھلائی کے ساتھ (بیوی کو) روک لیا جائے یا اچھے طریقے سے رخصت کر دیا جائے۔ اور تمہارے لیے جائز نہیں کہ جو کچھ تم نے انہیں دیا ہے اس میں سے کچھ واپس لو، سوائے اس صورت کے کہ دونوں کو اندیشہ ہو کہ وہ اللہ کی مقرر کردہ حدود کو قائم نہ رکھ سکیں۔ پھر اگر تمہیں بھی خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت جو کچھ دے کر اپنی جان چھڑا لے، اس میں دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں، لہٰذا ان سے تجاوز نہ کرو، اور جو اللہ کی حدوں سے تجاوز کریں گے، وہی ظالم ہیں سورۃ البقرہ آیت 229 کا مفہوم اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے طلاق کے معاملے میں انصاف، حکمت اور حدودِ الٰہی کی تعلیم دی ہے۔ شوہر کو دو مرتبہ رجعی طلاق دینے کا حق ہے۔ ان دو طلاقوں کے دوران اگر وہ چاہے تو عدت کے اندر بیوی کو اچھے طریقے سے واپس (رجوع) کر سکتا ہے۔ اگر ساتھ رہنا ممکن نہ ہو تو بھلے انداز میں علیحدگی اختیار کی جائے، ظلم، بدزبانی یا انتقام کے بغیر۔ شوہر کے لیے جائز نہیں کہ وہ بیوی کو دیا ہوا مہر یا تحائف واپس لے۔ البتہ اگر میاں بیوی دونوں محسوس کریں کہ وہ اللہ کے احکام کے مطابق ازدواجی زندگی نہیں گزار سکتے، تو عورت کچھ مال دے کر علیحدگی حاصل کر سکتی ہے، جسے خلع کہا جاتا ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے تاکید فرمائی کہ یہ اس کی مقرر کردہ حدود ہیں، ان سے تجاوز کرنے والے ظالم ہیں۔ ازدواجی تعلق محبت اور بھلائی سے قائم رکھا جائے، اور اگر علیحدگی ناگزیر ہو تو وہ بھی عزت، انصاف اور اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر ہو۔ صحیح بخاری حدیث نمبر 5273 حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے: ثابت بن قیسؓ کی بیوی نبی ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں ثابت بن قیس کے دین اور اخلاق میں کوئی عیب نہیں پاتی، لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ اگر میں ان کے ساتھ رہی تو اسلام کے تقاضے پورے نہ کر سکوں گی۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم وہ باغ واپس کر دو گی جو انہوں نے تمہیں مہر میں دیا تھا؟" انہوں نے عرض کیا: "جی ہاں۔" پھر رسول اللہ ﷺ نے ثابت بن قیسؓ سے فرمایا: "باغ واپس لے لو اور اسے ایک طلاق دے دو۔" مفہوم یہ حدیث خلع کے بارے میں ہے۔ اگر عورت اپنے شوہر کے دین و اخلاق میں خرابی نہ ہونے کے باوجود اس کے ساتھ نباہ نہ کر سکے اور ازدواجی زندگی جاری رکھنا مشکل ہو جائے، تو وہ مہر واپس کرکے خلع حاصل کر سکتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس صورت میں خلع کی اجازت دی۔ #treanding #treandingvideo#nadiiaesthetic

About