Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@am1nasdr:
am1nasdr
Open In TikTok:
Region: XK
Sunday 26 July 2026 13:11:35 GMT
291423
34883
185
1212
Music
Download
No Watermark .mp4 (
2.91MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
1.94MB
)
Watermark .mp4 (
2.99MB
)
Music .mp3
Comments
by_musilman🖤🖤 :
mp3 pls
2026-08-23 08:32:19
0
Nuur :
Chaba thabel mashallah
2026-08-22 01:10:53
0
reallllllllmadrid :
يعني اوشن ايز وهكا
2026-08-21 14:55:36
4
𝑠𝑒𝑙𝑖𝑛𝑎 :
was eine hübsche wow😍😍
2026-07-26 13:58:58
13
Ña Zli :
🥰
2026-08-20 11:20:10
3
𝓜𝓪𝓻𝓲𝓪𝓶 :
Wowww
2026-07-26 16:06:48
1
🪫 :
Your eyes🫠😍
2026-08-20 17:49:02
3
FRATELLO❤️ :
Me chatGPT
2026-07-29 08:36:20
2
Arjana 💫🫶🏻 :
Driteeeee 🥰🥰🥰🥰
2026-07-30 21:43:53
7
Ines Ines :
جمالها الله يبارك
2026-08-20 20:32:34
4
𝓜𝓪𝓻𝓲𝓪𝓶 :
2026-07-26 16:06:44
8
hxnavfnv :
woww
2026-07-26 13:14:27
9
Maryna 👑 ❤️ :
Du bist voll hübsch 😘
2026-08-08 21:00:23
1
ersi.Alla1 :
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
2026-07-29 20:11:14
4
Sakira🫣❤️🔥 :
🥰🥰🥰
2026-08-22 12:57:46
4
Stranger :
Albanian song or Romanian ?
2026-08-06 08:12:03
1
To see more videos from user @am1nasdr, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
film paket santet tayang 27 Agustus 2026 di bioskop 🔥 #filmpaketsantet #paketsantet #dikiriminpaketsantet #fyppppppppppppppppppppppp #viral
#sailormoon #90sanime #retro #nostalgic #animecity
1991 میں متحدہ عرب امارات کے شہر العین میں چار سالہ عمر ویبیر کو اسکول سے گھر لایا جا رہا تھا کہ ان کی گاڑی ایک اسکول بس سے ٹکرا گئی۔ عمر کی والدہ منیرہ عبداللہ نے حادثہ آتا دیکھ کر فوراً بیٹے کو سینے سے لپٹا لیا۔ عمر صرف معمولی چوٹ کے ساتھ محفوظ رہا، مگر اسے بچانے والی ماں کے دماغ پر ایسی شدید چوٹ آئی کہ وہ انتہائی محدود شعوری حالت میں چلی گئیں۔ منیرہ بول سکتی تھیں، نہ اپنی ضرورت بتا سکتی تھیں۔ انہیں خوراک ٹیوب کے ذریعے دی جاتی اور پٹھوں کو ناکارہ ہونے سے بچانے کے لیے فزیوتھراپی کروائی جاتی۔ ڈاکٹر عمر کو بار بار بتاتے رہے کہ شاید ان کی والدہ کبھی دوبارہ بات نہ کرسکیں، لیکن جس ماں نے حادثے کے وقت اپنے جسم کو بیٹے کی ڈھال بنایا تھا، عمر نے اسے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے سے انکار کردیا۔ وہ چار سالہ بچے سے ایک بالغ شخص بن گیا، مگر ماں سے ملنا اس کے روزمرہ معمول کا حصہ رہا۔ وہ کئی کلومیٹر پیدل چل کر ہسپتال پہنچتا، گھنٹوں ان کے پاس بیٹھتا اور ان کے خاموش چہرے کے معمولی تاثرات سے سمجھنے کی کوشش کرتا کہ انہیں کہاں درد یا تکلیف ہے۔ اس مسلسل ذمہ داری کے باعث عمر کے لیے باقاعدہ ملازمت کرنا بھی مشکل ہوگیا، مگر اسے کبھی اپنی خدمت پر پچھتاوا نہیں ہوا۔ منیرہ کو علاج اور انشورنس کی پابندیوں کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا جاتا رہا۔ بالآخر 2017 میں ابوظبی کے ولی عہد کی عدالت نے ان کا معاملہ سن کر جرمنی کے خصوصی بحالی مرکز میں جامع علاج کے اخراجات فراہم کیے۔ وہاں ان کے کمزور پٹھوں کی سرجری ہوئی، مرگی کو قابو کرنے کی کوشش کی گئی اور مسلسل جسمانی و ذہنی بحالی کا عمل شروع ہوا۔ جون 2018 میں جرمنی میں علاج کے آخری دنوں کے دوران عمر کی ہسپتال کے کمرے میں کسی سے تکرار ہوگئی۔ منیرہ نے بظاہر محسوس کیا کہ ان کا بیٹا خطرے میں ہے اور اچانک غیرمعمولی آوازیں نکالنے لگیں۔ تین دن بعد عمر سو رہا تھا کہ کسی نے اسے نام لے کر پکارا۔ آنکھ کھلی تو سامنے وہی ماں تھی جس کی آواز سننے کے لیے وہ 27 سال سے منتظر تھا۔ منیرہ کی زبان سے نکلنے والا پہلا واضح لفظ “عمر” تھا۔ بعد میں منیرہ نے اپنے بہن بھائیوں کے نام بھی لیے، اپنی تکلیف بتانے لگیں اور قرآن کی آیات پڑھنے میں عمر کا ساتھ دینے لگیں۔ عمر کا کہنا تھا کہ دنیا نے انہیں ایک ناامید مریض سمجھ لیا تھا، مگر اس نے کبھی اپنی ماں کو زندگی سے خارج نہیں کیا۔ 27 سال پہلے ماں نے ایک لمحے میں بیٹے کو بچایا تھا؛ پھر اسی بیٹے نے اپنی پوری جوانی ماں کی واپسی کی امید میں گزار دی—اور جب اس خاموشی نے آخرکار لفظ کا روپ لیا تو وہ لفظ بھی اسی وفادار بیٹے کا نام تھا۔
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy