جی، بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ بعض غزوات میں کچھ صحابہؓ کے بارے میں "فرار" کا الزام لگاتے ہیں، لیکن اس مسئلے کو پورے تاریخی اور حدیثی سیاق میں سمجھنا ضروری ہے۔
غزوۂ اُحد میں مسلمانوں کو وقتی انتشار کا سامنا ہوا تھا اور قرآنِ مجید نے ذکر کیا ہے کہ بعض مسلمان پیچھے ہٹ گئے تھے:
"بیشک جو لوگ تم میں سے اس دن پیٹھ پھیر گئے تھے جب دو جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں، شیطان نے ان کے بعض اعمال کے سبب انہیں لغزش میں ڈال دیا تھا، اور اللہ نے انہیں معاف فرما دیا۔" (سورۃ آل عمران 3:155)
اہلِ سنت کے نزدیک اگر کسی صحابی سے کسی موقع پر لغزش ہوئی بھی ہو تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور انہیں معاف فرما دیا، اس لیے اس واقعے کو ان کی تنقیص کے لیے استعمال کرنا درست نہیں۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کے بارے میں معتبر احادیث میں یہ ثابت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے نہایت قریبی اور جان نثار صحابہ تھے۔ غزوۂ حنین میں بھی کچھ مسلمانوں کے منتشر ہونے کا ذکر ملتا ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہنے والوں میں بڑے صحابہ شامل تھے۔
2026-07-26 17:23:22
9
To see more videos from user @johnshaqi01, please go to the Tikwm
homepage.