@saeedwrites04: If someone is hurt because of your actions, then all your prostrations (Sujood) are in vain. 🥀 #IslamicReminder #ThinkBeforeYouAct #KindnessMatters #RespectOthers #Deen #Islam #Muslim #Foryoupage #FYP #Viral #Reminder #TikTokIslam
آپ کی بات میں ایک بہت گہرا روحانی پہلو ہے، لیکن دین کی روشنی میں اس حقیقت کو تفصیلی طور پر سمجھنا ضروری ہے تاکہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا صحیح توازن واضح ہو سکے:
۱۔ سجدہ اور حقوق العباد دو الگ دائرے ہیں:
سجدہ (نماز) اللہ کا حق ہے اور کسی کو تکلیف نہ دینا انسانوں کا حق ہے۔ یہ دونوں الگ الگ احکامات ہیں۔ اگر کوئی شخص سجدہ کرتا ہے تو وہ اپنا ایک فرض پورا کر رہا ہے، اور اگر وہ کسی کو تکلیف دیتا ہے تو وہ ایک الگ گناہ کر رہا ہے۔ سجدہ اپنی جگہ ایک الگ عبادت ہے، اسے سرے سے "بیکار" یا "باطل" نہیں کہا جا سکتا کیونکہ فرض ادا کرنے سے انسان کم از کم نماز چھوڑنے کے کفر اور گناہ سے بچ جاتا ہے۔
۲۔ حدیثِ مفلس (اصل نقصان کیا ہے؟):
آپ کی پوسٹ کی روح بالکل درست ہے کہ کسی کو تکلیف دینے سے سجدوں کا "فائدہ" ختم ہو جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایک بار صحابہ سے پوچھا کہ "مفلس (قنگال) کون ہے؟" صحابہ نے کہا جس کے پاس پیسہ نہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن بہت سی نمازیں، روزے اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا یا کسی کو تکلیف دی ہوگی۔ چنانچہ اس کی نیکیاں (سجدے اور روزے) ان مظلوموں میں بانٹ دی جائیں گی، اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو مظلوموں کے گناہ اس کے سر ڈال کر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔" (صحیح مسلم)
خلاصہ یہ ہے کہ:
تکلیف دینے سے انسان کے سجدے دنیا میں تو ضائع نہیں ہوتے (یعنی فرض پورا ہو جاتا ہے)، لیکن اگر مظلوم نے معاف نہ کیا، تو قیامت کے دن وہ سارے سجدے چھن کر مظلوم کو مل جائیں گے اور ظالم کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ اس لحاظ سے آپ کی بات بالکل سچی ہے کہ بندوں کو تڑپا کر سجدوں کا "آخری انجام" نقصان کے سوا کچھ نہیں!
2026-07-28 06:48:19
0
Niaz Ali Deho :
🌹🌹🌹
2026-07-28 03:52:10
0
🇧🇫Atta Marwat 804🇧🇫🇧🇫 :
👍👍👍
2026-07-27 15:19:55
0
Qudrat Achakzai :
❤️❤️❤️
2026-07-27 09:00:38
0
shobii :
❤️❤️❤️
2026-07-28 06:50:24
0
To see more videos from user @saeedwrites04, please go to the Tikwm
homepage.