Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@xbestestfindsx: It’s on such a good deal today #tiktokshopcreatorpicks
BestestFinds
Open In TikTok:
Region: US
Monday 27 July 2026 15:43:00 GMT
906
0
0
0
Music
Download
No Watermark .mp4 (
1.46MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
0.78MB
)
Watermark .mp4 (
0MB
)
Music .mp3
Comments
There are no more comments for this video.
To see more videos from user @xbestestfindsx, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
#parati #paratiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiii #capcut #parejas Quieran y amen hoy.
#theodyssey #christophernolan
Você caiu no meu genjutsu 👁️🔴 . . #meme #naruto #sharingan #itachi
Vũ điệu samba🌚
Kung lagi kang nawawalan ng ballpen, ito na solution mo 😂 50/100 pcs na gel pen, smooth magsulat + super affordable pa. Perfect for students, teachers, or kahit pang daily use. Sulit talaga! #ballpen #studentessentials #schoolhacks #tiktokfinds #sulitfinds
وہ شخص جس نے یورپ کی آسائشیں چھوڑ کر پاکستان کا راستہ چنا پھر دنیا نے اسے "محسنِ پاکستان" کے نام سے جانا ڈاکٹر عبدالقدیر خان یکم اپریل 1936 کو برطانوی ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد 1952 میں ان کا خاندان پاکستان ہجرت کر آیا۔ وہ یورپ کی معروف لیبارٹریوں میں کم کر رہے تھے، جہاں بہترین تنخواہ، جدید سہولیات اور روشن مستقبل ان کے قدم چوم رہا تھا، مگر ان کے دل میں پاکستان ہر وقت زندہ تھا۔ 18 مئی 1974 کو بھارت نے اپنا پہلا ایٹمی تجربہ کیا۔ یہ خبر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے لیے کسی صدمے سے کم نہ تھی۔ کئی دن تک وہ بے چین رہے۔ ان کے ذہن میں صرف ایک سوال گردش کرتا رہا۔ "اگر پاکستان نے بھی اپنی دفاعی طاقت مضبوط نہ کی تو کیا ہوگا؟" بالآخر انہوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے تاریخ بدل دی۔ 17 ستمبر 1974 کو انہوں نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ایک تفصیلی خط لکھا۔ اس میں انہوں نے لکھا کہ اگر حکومت اعتماد کرے تو وہ اپنی تعلیم، تجربہ اور مہارت پاکستان کے دفاع کے لیے وقف کرنے کو تیار ہیں۔ چند ماہ بعد انہیں پاکستان بلایا گیا۔ ملاقات کے دوران انہوں نے ایٹمی پروگرام سے متعلق اپنے خیالات پیش کیے، جن سے حکومت کافی متاثر ہوئی۔ پھر وہ لمحہ آیا جب انہوں نے یورپ کی پرتعیش زندگی، بھاری تنخواہ اور محفوظ مستقبل کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور 1975 میں پاکستان واپس آگئے۔ یہ صرف ایک ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے خواب کا آغاز تھا جسے پورا کرنے کے لیے انہوں نے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ کہوٹ لیبارٹری... جہاں تاریخ لکھی جا رہی تھی پاکستان واپسی کے بعد انہیں انتہائی محدود وسائل، عالمی دباؤ اور بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کہوٹہ میں قائم ہونے والی لیبارٹری میں دن رات تحقیق جاری رہی۔ جدید مشینری دستیاب نہیں تھی، ضروری پرزے حاصل کرنا مشکل تھا اور ہر قدم پر رازداری ضروری تھی۔ مگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم نے ہمت نہیں ہاری۔ سالوں کی مسلسل محنت کے بعد پاکستان یورینیم افزودگی کی صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا، جو ملکی دفاع کی بنیاد بن گئی۔ 1998... جب پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر تھیں مئی 1998 میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے بھی چاغی کے پہاڑوں میں کامیاب ایٹمی تجربات کیے۔ یہ لمحہ پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین باب بن گیا۔ اگرچہ اس کامیابی میں متعدد سائنس دانوں، انجینئرز، فوجی ماہرین اور اداروں نے کردار ادا کیا، تاہم عوامی سطح پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس کامیابی کی سب سے نمایاں علامت بن کر سامنے آئے۔ اسی دن سے ان کا نام پاکستان کے دفاع اور قومی خودمختاری کے ساتھ جڑ گیا۔ مشکلات برداشت کیں، برسوں خفیہ ماحول میں کام کیا اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ وطن کے دفاع کے لیے وقف کر دیا۔ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ان کا پیغام ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہمیشہ کہتے تھے: "کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے تعلیم یافتہ، باکردار اور محنتی نوجوان ہوتے ہیں۔" وہ چاہتے تھے کہ پاکستان سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق میں دنیا کی صفِ اول کی اقوام میں شامل ہو۔ اعزازات اور عوامی محبت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ہلالِ امتیاز اور نشانِ امتیاز جیسے اعلیٰ سول اعزازات سے نوازا۔ لیکن ان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق وہ کہا کرتے تھے کہ ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز پاکستانی عوام کی محبت ہے۔ وفات... مگر نام ہمیشہ زندہ رہے گا 10 اکتوبر 2021 کو اسلام آباد میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی وفات کی خبر نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔ لاکھوں پاکستانیوں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا، کیونکہ ان کی نظر میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان صرف ایک سائنس دان نہیں بلکہ قومی خوداعتمادی اور دفاعی صلاحیت کی ایک نمایاں علامت تھے۔ تاریخی ریکارڈ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ان کی زندگی کے بعض پہلو بین الاقوامی سطح پر تنازعات کا موضوع رہے، تاہم پاکستان میں ان کی سائنسی خدمات اور قومی دفاع میں کردار کے باعث وہ آج بھی بڑے احترام سے یاد کیے جاتے ہیں۔ آئیں ان کے لیے دعا کرتے ہیں۔ یااللہ عبدالقدیر خان کی مغفرت فرما۔ ان کے درجات بلند فرما۔ ان کے لیے آخرت کی زندگی میں انعامات کی بارش عطا فرما ۔۔ ان کو حوض کوثر سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ مبارک سے پانی پلا ۔۔۔۔ آمین
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy