@valet6055: @Сергеев Сергей553 Мій Сережка... 🤍 Знаєш, найважче — це жити у тиші і не мати змоги просто запитати, як твої справи. Бувають хвилини, коли сльози самі котяться з очей від болю та важких думок... 💔 Але я пообіцяла собі бути сильною ради нас із тобою. Я знаю, що ти повернешся. Це моя єдина правда, моя молитва і моя щоденна впевненість 🙏✨. Ти дуже сильний, і ти обов'язково знайдеш шлях додому. Я бережу наше кохання, наші теплі спогади і чекаю на той день, коли зможу міцно тебе обійняти і більше ніколи не відпускати 🫂. Повертайся до мене живим і неушкодженим, мій коханий! 🕊️🇺🇦 💙🖤💔 #повертайсяживим #дружинабезвiстiзниклого #чекаюнатебе #зниклийбезвісти #полон

Valentina
Valentina
Open In TikTok:
Region: UA
Monday 27 July 2026 23:06:15 GMT
2167
150
16
2

Music

Download

Comments

user9140815867354
serqiy :
2026-08-02 14:43:21
2
.rich.gnag
💸 👑 Rich GNAG🔞 :
Iooo
2026-09-21 20:12:20
1
anna251122
anna :
Повертайся живим! Хай Бог тебе береже!
2026-07-28 08:46:11
2
user8110769400037
Наталия Маслова :
🙏🙏🙏🙏🙏🙏
2026-07-30 21:47:22
2
usernznl10ru48
usernznl10ru48 :
🙏🙏🙏
2026-07-28 03:49:26
2
hende.ryeeeyy
hendddd :
🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼
2026-08-10 08:06:47
1
pluxury__phara
Anna🖤⛓️ :
++++(
2026-08-04 18:19:57
0
.826821
Дружина воїна 82 ОДШБ :
🙏🙏🙏
2026-08-08 17:56:09
1
user2051625081079
евгеній :
🥰🥰🥰
2026-08-29 03:07:28
1
To see more videos from user @valet6055, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کیا آپ جانتے ہیں؟ ۔۔۔۔1962ء میں امریکی خاتونِ اول جیکولین کینیڈی خیبر پاس کیوں آئی تھیں۔۔۔۔۔۔۔؟ تحریر: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ AFRIDI OFFICIAL۔۔۔۔۔۔۔۔ ✍️ مارچ 1962ء میں پاکستان نے ایک ایسی تاریخی مہمان کی میزبانی کی جس کی آمد نے اس وقت کے پشاور، جمرود اور خیبر پاس کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا۔ یہ تھیں جیکولین کینیڈی، امریکی صدر جان ایف کینیڈی کی اہلیہ اور اُس وقت کی خاتونِ اولِ امریکہ۔ وہ مارچ 1962ء میں اپنے سرکاری دورے کے دوران پاکستان آئیں۔ ان کے سفر میں لاہور، راولپنڈی، پشاور اور کراچی سمیت اہم مقامات شامل تھے، جبکہ پشاور سے آگے وہ تاریخی درۂ خیبر تک بھی گئیں۔ امریکی سرکاری تاریخی ریکارڈ میں اس دورے کو 21 سے 26 مارچ 1962ء کے سفر کے طور پر دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ خیبر پاس ہی کیوں۔۔۔۔۔۔۔؟ 🤔 خیبر محض ایک پہاڑی راستہ نہیں تھا۔ صدیوں سے یہ برصغیر اور افغانستان کے درمیان ایک اہم تاریخی گزرگاہ رہا ہے۔ امریکی سرکاری فلم میں بھی پشاور اور خیبر کو تاریخ کے اسی قدیم راستے کے طور پر دکھایا گیا جس سے صدیوں تک مسافر، تاجر، سپاہی اور قبائلی لوگ گزرتے رہے۔ جیکولین کینیڈی نے پشاور کے تاریخی قصہ خوانی بازار کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں شہر کی قدیم ثقافت اور روایتی ماحول دیکھنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد ان کا سفر خیبر کی طرف ہوا۔ اس دورے کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ اس زمانے میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات سرد جنگ کی عالمی سیاست سے بھی جڑے ہوئے تھے۔ امریکی پالیسی ساز پاکستان کو مغربی اتحاد کے نظام میں ایک اہم ملک سمجھتے تھے اور خطے میں سوویت اثر و رسوخ کو بھی اہمیت دیتے تھے۔ لیکن جیکولین کا سفر صرف سیاست تک محدود نہیں تھا۔ ان کے دورے میں پاکستان کی تاریخ، ثقافت، فن، روایات اور عوامی زندگی کو قریب سے دیکھنا بھی شامل تھا۔ امریکی سرکاری ریکارڈ میں محفوظ فلم کے مطابق انہوں نے پاکستان کی ثقافت اور روایات کے بارے میں اپنی گہری متاثر ہونے کی بات بھی کی۔ اور سوچیں…🥺 آج سے 64 سال پہلے جیکولین کینیڈی خیبر کی انہی پہاڑیوں کے درمیان موجود تھیں، جہاں صدیوں سے قافلے گزرتے رہے تھے۔ پشاور کا قصہ خوانی بازار، جمرود، خیبر پاس اور اس خطے کے قبائلی ماحول نے اس تاریخی دورے کو ایک الگ رنگ دیا۔ آج جب ہم 1962ء کی وہ پرانی تصاویر دیکھتے ہیں تو ہمیں صرف ایک عالمی شخصیت نظر نہیں آتی، بلکہ اپنے پشاور، جمرود اور خیبر کی وہ پرانی دنیا بھی دکھائی دیتی ہے جو وقت کے ساتھ بہت بدل چکی ہے۔ ❤️ ایک لمحے کے لیے تصور کریں… 1962ء کا خیبر، پرانے قبائلی لباس، جمرود کا ماحول اور درمیان میں امریکی خاتونِ اول جیکولین کینیڈی۔ کیا آپ نے پہلے کبھی جیکولین کینیڈی کی خیبر پاس کی یہ تاریخی تصویر دیکھی تھی۔۔۔۔۔؟ #JacquelineKennedy  #KhyberPass  #Jamrud  #PeshawarHistory  #PakistanHistory
کیا آپ جانتے ہیں؟ ۔۔۔۔1962ء میں امریکی خاتونِ اول جیکولین کینیڈی خیبر پاس کیوں آئی تھیں۔۔۔۔۔۔۔؟ تحریر: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ AFRIDI OFFICIAL۔۔۔۔۔۔۔۔ ✍️ مارچ 1962ء میں پاکستان نے ایک ایسی تاریخی مہمان کی میزبانی کی جس کی آمد نے اس وقت کے پشاور، جمرود اور خیبر پاس کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا۔ یہ تھیں جیکولین کینیڈی، امریکی صدر جان ایف کینیڈی کی اہلیہ اور اُس وقت کی خاتونِ اولِ امریکہ۔ وہ مارچ 1962ء میں اپنے سرکاری دورے کے دوران پاکستان آئیں۔ ان کے سفر میں لاہور، راولپنڈی، پشاور اور کراچی سمیت اہم مقامات شامل تھے، جبکہ پشاور سے آگے وہ تاریخی درۂ خیبر تک بھی گئیں۔ امریکی سرکاری تاریخی ریکارڈ میں اس دورے کو 21 سے 26 مارچ 1962ء کے سفر کے طور پر دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ خیبر پاس ہی کیوں۔۔۔۔۔۔۔؟ 🤔 خیبر محض ایک پہاڑی راستہ نہیں تھا۔ صدیوں سے یہ برصغیر اور افغانستان کے درمیان ایک اہم تاریخی گزرگاہ رہا ہے۔ امریکی سرکاری فلم میں بھی پشاور اور خیبر کو تاریخ کے اسی قدیم راستے کے طور پر دکھایا گیا جس سے صدیوں تک مسافر، تاجر، سپاہی اور قبائلی لوگ گزرتے رہے۔ جیکولین کینیڈی نے پشاور کے تاریخی قصہ خوانی بازار کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں شہر کی قدیم ثقافت اور روایتی ماحول دیکھنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد ان کا سفر خیبر کی طرف ہوا۔ اس دورے کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ اس زمانے میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات سرد جنگ کی عالمی سیاست سے بھی جڑے ہوئے تھے۔ امریکی پالیسی ساز پاکستان کو مغربی اتحاد کے نظام میں ایک اہم ملک سمجھتے تھے اور خطے میں سوویت اثر و رسوخ کو بھی اہمیت دیتے تھے۔ لیکن جیکولین کا سفر صرف سیاست تک محدود نہیں تھا۔ ان کے دورے میں پاکستان کی تاریخ، ثقافت، فن، روایات اور عوامی زندگی کو قریب سے دیکھنا بھی شامل تھا۔ امریکی سرکاری ریکارڈ میں محفوظ فلم کے مطابق انہوں نے پاکستان کی ثقافت اور روایات کے بارے میں اپنی گہری متاثر ہونے کی بات بھی کی۔ اور سوچیں…🥺 آج سے 64 سال پہلے جیکولین کینیڈی خیبر کی انہی پہاڑیوں کے درمیان موجود تھیں، جہاں صدیوں سے قافلے گزرتے رہے تھے۔ پشاور کا قصہ خوانی بازار، جمرود، خیبر پاس اور اس خطے کے قبائلی ماحول نے اس تاریخی دورے کو ایک الگ رنگ دیا۔ آج جب ہم 1962ء کی وہ پرانی تصاویر دیکھتے ہیں تو ہمیں صرف ایک عالمی شخصیت نظر نہیں آتی، بلکہ اپنے پشاور، جمرود اور خیبر کی وہ پرانی دنیا بھی دکھائی دیتی ہے جو وقت کے ساتھ بہت بدل چکی ہے۔ ❤️ ایک لمحے کے لیے تصور کریں… 1962ء کا خیبر، پرانے قبائلی لباس، جمرود کا ماحول اور درمیان میں امریکی خاتونِ اول جیکولین کینیڈی۔ کیا آپ نے پہلے کبھی جیکولین کینیڈی کی خیبر پاس کی یہ تاریخی تصویر دیکھی تھی۔۔۔۔۔؟ #JacquelineKennedy #KhyberPass #Jamrud #PeshawarHistory #PakistanHistory

About