@necmizengin6: #paylas #keşfet #ContentCreator

Necmi Zengin
Necmi Zengin
Open In TikTok:
Region: DE
Tuesday 28 July 2026 09:20:03 GMT
215153
3299
47
2873

Music

Download

Comments

bakhtiyarovna_muniw
🎀 :
kıskanmayanda sevmiyor
2026-07-29 10:09:38
45
c.e.fe.r.o.v.a
🖤 :
ee. bizimki aldatiyor ama kiskanmiyor. buna ne diyoruz
2026-07-29 11:43:48
22
lolotek6161
(..)🐣PIKAÇU🐣 :
yuz fayiz doğrudur
2026-07-29 04:35:45
2
slmasar
selmasarıkaya :
yoo kıskanılmıyordm ama aldatıldm skkslls
2026-07-30 07:17:54
0
fuzie84
Fuzie Mamedova :
ÇOK HAKLISINIZ ÇOK
2026-07-29 04:41:50
7
gunayyyyyy34
🇦🇿Günay🇹🇷 :
VAYYY DEMEK BOYLE//
2026-07-30 06:43:19
0
fatosh.sezgin
FATOŞ :
Kıskanmayanda aldatıyor
2026-07-29 15:50:29
2
apsana_33
apsana.33 :
qisqanmiyan erkek sevmez
2026-07-29 13:00:08
2
muradiye.yamanolu
Muy yam :
Benim kocam hiç kıskanç deyil ben ona oda bana çok güvenir telefonlarımızın şifresi aynı
2026-07-29 23:10:21
1
asl.01905
♈️A-S-L-I♟️ :
doğru
2026-07-30 02:51:49
0
zeliha.12_24_25
Zeliha🍒 :
hayır yedi bolun başına gelmesinden korkar😠😠
2026-07-29 17:37:51
0
asiii.233
X :
yaşayan var mı ?
2026-07-29 20:51:04
0
konya_1453
A.Ş💯🫶 :
kiskanmayandan aldatır ne yapcaz
2026-07-29 15:29:23
0
bebe__.13
aytac13_bebe :
eee yani o yapicak benmi yapmicamm dogru dusunuyor o yapiyorsa bende yapiyorum😂😂😂😂
2026-07-29 18:39:05
0
nowomancrys
𝓤𝓰𝓾𝓻 𝓜𝓤𝓣𝓛𝓤 ☑️ :
ya aldatıldıysa ?
2026-07-29 14:35:20
0
sara002918
sara002918 :
2026-07-29 18:17:51
0
hesenovaaa_07
xəyalə :
düz
2026-07-29 12:32:30
0
melodi26.su
Güneş :
Çok doğru yaşadım
2026-07-29 11:00:16
0
abiyeva_._
︎꧁☆🖤❀ö𝑀UɌ❀🖤☆꧂ :
belki travması vardır belki aldanılmıştır olamazmı ???
2026-07-30 07:19:40
0
yahehe39
senmisin :
cok dogru
2026-07-29 13:23:28
0
hakankunt3
Hakan.K. :
aşkım bunu daha inanma
2026-07-29 23:11:00
0
svdaabky
𝐒✨ :
Sağ olun ya ağzıma sıçtınız bir dayandığım o vardı
2026-07-29 17:35:47
0
clx1ree_
Həsənova :
ömür boyu həyatımı maf etdi Allah belasını versin amin
2026-07-29 07:10:22
0
To see more videos from user @necmizengin6, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اولاد کو بچپن سے یہی سکھایا جاتا ہے کہ گھر ہی سب سے محفوظ جگہ ہوتی ہے، ماں کی گود میں سکون ہوتا ہے، باپ کے سائے میں خوف مٹ جاتے ہیں۔   مگر جب وہی ماں باپ اپنے ہاتھوں سے اس کے خواب توڑ دیں، اس کی مرضی کو روند دیں، تو دنیا میں بچے کے پاس بچتا ہی کیا ہے؟   اس کا دل، جو کبھی کسی کے لیے دھڑکتا تھا، اسے زبردستی کچل دیا گیا۔   اس کی ہنسی، جو گھر میں گونجتی تھی، اب آہوں میں بدل گئی۔   اس کی آنکھیں، جو کل تک امید سے چمکتی تھیں، اب رات بھر آنسو بہاتی ہیں۔   نہ پوچھا گیا اس سے کہ وہ کس کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہے،   نہ سنا گیا اس کا درد، نہ سمجھا گیا اس کا دل۔   بس ایک فیصلہ سنایا گیا، جیسے وہ کوئی بے جان چیز ہو، جسے جہاں چاہو رکھ دو۔   اور جب اس نے مزاحمت کی، جب اس نے کہا کہ میرا دل وہاں نہیں لگتا،   تو اسے ضد، بے وفائی، اور ناشکری کے طعنے ملے۔   کہا گیا،
اولاد کو بچپن سے یہی سکھایا جاتا ہے کہ گھر ہی سب سے محفوظ جگہ ہوتی ہے، ماں کی گود میں سکون ہوتا ہے، باپ کے سائے میں خوف مٹ جاتے ہیں۔ مگر جب وہی ماں باپ اپنے ہاتھوں سے اس کے خواب توڑ دیں، اس کی مرضی کو روند دیں، تو دنیا میں بچے کے پاس بچتا ہی کیا ہے؟ اس کا دل، جو کبھی کسی کے لیے دھڑکتا تھا، اسے زبردستی کچل دیا گیا۔ اس کی ہنسی، جو گھر میں گونجتی تھی، اب آہوں میں بدل گئی۔ اس کی آنکھیں، جو کل تک امید سے چمکتی تھیں، اب رات بھر آنسو بہاتی ہیں۔ نہ پوچھا گیا اس سے کہ وہ کس کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہے، نہ سنا گیا اس کا درد، نہ سمجھا گیا اس کا دل۔ بس ایک فیصلہ سنایا گیا، جیسے وہ کوئی بے جان چیز ہو، جسے جہاں چاہو رکھ دو۔ اور جب اس نے مزاحمت کی، جب اس نے کہا کہ میرا دل وہاں نہیں لگتا، تو اسے ضد، بے وفائی، اور ناشکری کے طعنے ملے۔ کہا گیا، "ہم تمہارے لیے بہتر سوچتے ہیں"، مگر بہتر کا پیمانہ کبھی اس سے نہ پوچھا گیا۔ پھر آہستہ آہستہ اس کے اندر کا انسان مرنے لگا۔ وہ جو کبھی سب سے باتیں کرتا تھا، اب خاموش ہو گیا۔ وہ جو ہر کام شوق سے کرتا تھا، اب بے دلی سے کرتا ہے۔ نیند اُڑ گئی، بھوک مٹ گئی، اور چہرے پر وہ مسکراہٹ کبھی واپس نہ آئی۔ کوئی نہیں دیکھتا کہ اس کے اندر ایک قبر بن گئی ہے، جہاں اس کے جذبات دفن ہیں۔ اور سب سے بڑا ظلم یہ کہ اسی حالت میں، ٹوٹے دل اور بے جان روح کے ساتھ، اسے اس انسان کے حوالے کر دیا گیا جس سے وہ نفرت کرتا تھا۔ جس کے ساتھ جینے کا سوچ کر ہی اس کی سانس رکتی تھی۔ پھر بھی گھر والے سینہ تان کر کہتے ہیں، "ہم نے جو کیا، اس کی بھلائی کے لیے کیا"۔ کس بھلائی کے لیے؟ اسے زندہ لاش بنانے کے لیے؟ اس کی عزت نفس کو خاک میں ملانے کے لیے؟ اس کی زندگی کو ایک سزا بنانے کے لیے؟ بھلائی کا نام لے کر جب ظلم کیا جائے، تو ظلم دگنا ہو جاتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ دھوکہ بھی شامل ہو جاتا ہے۔ یہ وہ زخم ہے جو دکھتا نہیں، مگر اندر ہی اندر انسان کو کھا جاتا ہے۔ اب وہ ہر روز جیتا ہے، مگر مرتا ہے ہر لمحہ۔ مسکراتا ہے، مگر وہ مسکراہٹ کسی کے کام کی نہیں رہی۔ چلتا ہے، مگر اس کے قدموں میں وہ جان نہیں رہی۔ اور جب کبھی رات کی تاریکی میں وہ اکیلا بیٹھ کر سوچتا ہے، تو صرف ایک سوال دل چیر دیتا ہے: کیا میں واقعی اتنی برا تھا کہ میرے اپنے ہی مجھے برباد کر دیں؟ ماں باپ کا نام محبت کا استعارہ ہوتا ہے، مگر جب وہی نام ظلم کا مترادف بن جائے، تو دنیا میں بچے کے لیے کوئی پناہ نہیں بچتی۔ اس نے معاف کرنے کی کوشش کی، بھولنے کی کوشش کی، مگر دل وہ کتاب نہیں جس کے صفحے پھاڑ کر پھینک دو۔ ہر سانس کے ساتھ وہی درد دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے۔ آج وہ زندہ ہے، مگر صرف سانس لینے کے لیے۔ جیتا ہے، مگر اس زندگی میں اس کا اپنا کچھ نہیں۔ اور گھر والے آج بھی مطمئن ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنی انا کی تسکین کر لی، اپنی مرضی چلا لی۔ مگر کاش وہ جانتے کہ ایک دن، جب وہ بوڑھے ہوں گے، جب ان کے ہاتھ کانپیں گے، تو یہی بیٹا، جس کا دل انہوں نے توڑا تھا، ان کے سامنے بے جان کھڑا ہوگا، اور آنکھوں میں صرف خالی پن ہوگا۔ نہ شکوہ، نہ شکایت، بس ایک خاموشی جو چیخ چیخ کر کہے گا: "تم نے مجھے مارا، مگر لاش کو زندہ چھوڑ دیا"۔ یہ ہے وہ سچ، جو کوئی نہیں کہتا، مگر ہزاروں گھروں میں روز دہرایا جاتا ہے۔ اولاد کے دل مار کر، انہیں ذہنی مریض بنا کر، ناپسندیدہ کے حوالے کر دینے کے بعد، لوگ کہتے ہیں، "ہم نے سب کچھ اس کی بھلائی کے لیے کیا"۔ اور یہ جملہ، یہ ایک جملہ، اس بچے کے لیے موت سے بھی بدتر ہے۔. #foryoupage #foryou #sakoo_qalb #fyp

About