@dostainbaloch533: بلیدہ کے رہائشی رفیق کا دردناک انکشاف: "میرے بے گناہ حافظِ قرآن بیٹے، حیر بیار، کو بی ایل اے کے دہشت گردوں نے بے رحمی سے قتل کر دیا۔" میرا بیٹا ایک کم عمر، بے گناہ اور حافظِ قرآن تھا۔ اس کا کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ پھر بی ایل اے نے اسے کس جرم کی سزا دی؟ اگر اسی طرح بے گناہ لوگوں کو قتل کیا جاتا رہا تو کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ میرے خاندان کے دو افراد قتل کیے جا چکے ہیں؛ ایک ناصر اور دوسرا میرا بیٹا حیر بیار۔ دونوں بے قصور تھے۔ یہ کیسی دہشت گردی ہے کہ بے گناہ لوگوں کو قتل کر کے ان کی لاشیں پھینک دی جاتی ہیں؟ بی ایل اے کی بلوچ نسل کشی کی مہم سے بلوچستان کبھی آزاد نہیں ہوگا۔ ہر جگہ نوجوانوں اور معصوم بچوں کو بے گناہ قتل کر کے ان کی لاشیں پھینک دی جاتی ہیں۔ اگر آپ کو کسی نوجوان پر شک ہے یا اس کے بارے میں کوئی اعتراض ہے، تو پہلے اس کے والدین کو آگاہ کریں کہ ان کے بیٹے کے بارے میں یہ شکایت ہے، تاکہ وہ اسے سمجھا سکیں۔