@gul__7620: #ВэтотДень

🌳 ҚЫЗЫҚ - ДЕРЕК 💡
🌳 ҚЫЗЫҚ - ДЕРЕК 💡
Open In TikTok:
Region: KZ
Tuesday 28 July 2026 11:05:40 GMT
58646
2204
98
1263

Music

Download

Comments

user6968062404060
Сейдіғалым Алимов :
Сәлем салу басқа мұсылман халықтарында жоқ
2026-07-29 03:20:03
15
adaibek98
adaibek :
Хауа ананың ата енесі қайнағасы болған ба
2026-07-28 18:24:56
14
g12321568
ҒАЛЫМБЕК Рудный :
Қаиран Қазағым сәлем салуы Қазақ Аналарымыз салтымызға мың алғыс тек Қазақ та бар салт Ата
2026-07-29 00:34:26
11
user5749230763618
Байсейіт :
Қазақтың әдемі Сәлем салуын,жанжаққа шашпайық ағайын.
2026-07-29 02:02:35
10
user1507500355327
Тот самый Маке :
бекр сөз , онда басқа мұсылмандар неге солай жасамады , бекер бұл сәлем салуы тек қазақ тың тәлім тәрбиесі , бұл сәлем салуы тек үлкенге Қайнаға ға Атасына Абысынға Енесіне , осыларға сәлем салат , мойнына асылмасын ,Ойнамасын деген түсінік пен
2026-07-28 19:13:11
12
ainur85308
Arakus :
СӘЛЕМ САЛУ, БАТА АЛУ.
2026-07-29 09:46:57
2
aikynkyzyrbek1
aikynkyzyrbek1 :
ата жасіңызды силаимын бырақ аңыз аитып кеттіңіз атасалтын өзімізге қайтару дурыс болар
2026-07-29 04:44:40
2
user4499468720816
user4499468720816 :
ол кездеде қызғаныш болған сол амандасып турғанын қаламай узақтан салем салып араласын деген шығар😂
2026-07-29 09:44:14
0
user9215918405177
user9215918405177 :
ассалаумағалайкум машалла бәрекелді өте дұрыс айтады
2026-07-29 09:53:06
0
1986kyanw
kuanyshkuansho :
САЛЕМ САЛУДЫН БАСКА ТУРИДЕ БАРГОЙ ОНЫ КАЛАЙ ТУСИНЕМИЗ ИШИН УСТАЙДЫГОЙ ОСЫНЫДА ТАЛКЫЛАП БЕРСЕ
2026-07-29 09:39:33
0
user32974251881181
Орынбасар Турганбаев :
Біздің салтымыз қазақ қа тан ғо🥰
2026-07-29 03:33:03
1
user30459059230666
Макат Кобесов :
тусинбедим.калай среда?? баска ултта жоккой??
2026-07-29 02:59:16
2
aliyasadykova7
Тамсан :
Көріп тұрғандай айтылып жатыр шіркін, сеніммен сенбеу қатар тұрады 21 ғасыр ғой,
2026-07-28 18:43:39
1
g12321568
ҒАЛЫМБЕК Рудный :
Неге Осы Біз Қазақ өз Ата Бабамыз бен мактанбаимыз осыншама жерді елді салты дәстүрін тілін сактап қалды соны жоққа шығаратын Сатқындык ұрпакты уламаи
2026-07-29 02:43:56
2
lazzat9999
Лазат Сетпаева :
🥰
2026-07-29 06:30:54
0
bauyrzhanryskeldi
Бауыржан Рыскелдиев :
Дәлелсіз дерек, ой толғау.
2026-07-29 07:15:06
0
user2413934716214
Мархабат Кожагелдиева Жарылкап :
🤲🤲🤲❤️❤️❤️🙏
2026-07-29 07:28:15
0
ateistka1
ateistka :
😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😅😅терлепуеттімғо
2026-07-29 10:34:33
0
tazagul7899
tazagul :
Сәлем Пірге жеткізеді! Пір Бірге, яғни Бір Аллаға жеткізеді! Ер адамға аманат Рух Сөзімен Ары епті, деп! Бір Аллаға сенімімен ретті тек!
2026-07-29 08:18:28
0
user7583842265482
Ақберді :
сенбеймін
2026-07-29 08:41:29
0
To see more videos from user @gul__7620, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پشاور میوزیم کی عمارت کی مکمل تاریخی معلومات تعارف پشاور میوزیم پاکستان کے قدیم ترین عجائب گھروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف گندھارا تہذیب کے نادر آثار کا سب سے بڑا ذخیرہ رکھتا ہے بلکہ اس کی عمارت بھی برطانوی دور کے فنِ تعمیر کا ایک اہم نمونہ ہے۔ موجودہ عمارت ابتدا میں Victoria Memorial Hall کہلاتی تھی اور بعد میں اسے پشاور میوزیم کی حیثیت دی گئی۔ � Kp Archaeology +1 عمارت کب بنی؟ عمارت کی تعمیر 1906–1907ء میں ہوئی۔ اس کا افتتاح نومبر 1907ء میں ہوا۔ یہ عمارت ملکہ وکٹوریہ (Queen Victoria) کی یاد میں تعمیر کی گئی، اسی لیے اس کا نام Victoria Memorial Hall رکھا گیا۔ � Kp Archaeology +1 عمارت کس نے بنائی؟ یہ عمارت برطانوی حکومت کے دور میں تعمیر ہوئی۔ تعمیر کی مالی تفصیل یہ تھی: کل لاگت تقریباً 60,000 روپے۔ 45,000 روپے اُس وقت کے سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختونخوا) کے عوام نے چندے کی صورت میں فراہم کیے۔ 15,000 روپے برطانوی حکومت کے Archaeological Survey of India نے دیے۔ � Kp Archaeology عمارت کا طرزِ تعمیر یہ عمارت Indo-Saracenic طرزِ تعمیر کی عمدہ مثال ہے، جس میں: برطانوی نوآبادیاتی طرز مغل طرزِ تعمیر راجستھانی عناصر بدھ فنِ تعمیر کے اثرات شامل ہیں۔ نمایاں خصوصیات: دو منزلہ مرکزی ہال چار خوبصورت گنبد کشادہ محرابی برآمدے سرخ اینٹوں اور سفید پتھر کی آرائش بلند چھتیں اور قدرتی روشنی کا بہترین انتظام۔ � Jac QAU +1 میوزیم بننے سے پہلے اس عمارت کا استعمال یہ سوال سب سے زیادہ اہم ہے، اور اسی پر مختلف آراء بھی پائی جاتی ہیں۔ مستند تاریخی شواہد کیا کہتے ہیں؟ موجودہ تحقیقی اور سرکاری ریکارڈ اس بات پر متفق ہیں کہ: یہ عمارت ابتدا میں میوزیم کے لیے نہیں بنائی گئی تھی۔ 2025 میں شائع ہونے والی تحقیقی تحقیق، جو برطانوی آرکائیوز پر مبنی ہے، واضح کرتی ہے کہ عمارت کا اصل مقصد کچھ اور تھا اور بعد میں اسے میوزیم میں تبدیل کیا گیا۔ � Jac QAU اصل استعمال دستیاب شواہد کے مطابق Victoria Memorial Hall کو درج ذیل مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا: برطانوی گورنر کی سرکاری تقریبات سرکاری استقبالیے (Reception) ضیافتیں (Banquets) سماجی اجتماعات رقص کی تقریبات (Ballroom Functions) اعلیٰ سرکاری شخصیات اور معزز مہمانوں کے اعزاز میں منعقد ہونے والی تقریبات۔ � Associated Press of Pakistan +1 کیا یہ Guest House تھا؟ یہاں ایک اہم فرق ہے۔ اب تک دستیاب سرکاری تاریخی ریکارڈ میں اس عمارت کو باقاعدہ رہائشی Guest House قرار نہیں دیا گیا۔ البتہ: یہاں برطانوی حکام اپنے مہمانوں کے اعزاز میں تقریبات منعقد کرتے تھے۔ معزز مہمانوں کا استقبال کیا جاتا تھا۔ سرکاری ضیافتیں منعقد ہوتی تھیں۔ اس لیے اسے Reception Hall یا Ballroom کہنا تاریخی اعتبار سے زیادہ درست ہے، جبکہ اسے رہائشی مہمان خانہ کہنا مضبوط دستاویزی ثبوت سے ثابت نہیں ہوتا۔ � Associated Press of Pakistan +1 میوزیم میں تبدیلی جب گندھارا تہذیب کے آثار بڑی تعداد میں پشاور، تخت بھائی، شہ جی کی ڈھیری، سہری بہلول، جمال گڑھی اور دیگر مقامات سے دریافت ہوئے تو انہیں محفوظ رکھنے کے لیے ایک موزوں عمارت درکار تھی۔ اسی مقصد سے Victoria Memorial Hall کو عجائب گھر میں تبدیل کیا گیا، اور نومبر 1907ء میں یہاں آثارِ قدیمہ کی باقاعدہ نمائش شروع ہوئی۔ � Kp Archaeology بعد کی توسیعات 1969–1970ء: مشرقی اور مغربی جانب نئے ہال تعمیر کیے گئے۔ 1974–1975ء: ان ہالوں پر دوسری منزل تعمیر کی گئی۔ 2004–2005ء: جدید بلاک، نئی گیلریاں، کنزرویشن لیبارٹری، دفاتر اور دیگر سہولیات شامل کی گئیں۔ � Kp Archaeology +1 اہم تاریخی نتیجہ تاریخی دستاویزات کی روشنی میں درج ذیل باتیں اعتماد سے کہی جا سکتی ہیں: یہ عمارت 1906–1907ء میں تعمیر ہوئی۔ اس کا اصل نام Victoria Memorial Hall تھا۔ یہ ملکہ وکٹوریہ کی یادگار کے طور پر تعمیر کی گئی۔ ابتدا میں یہ سرکاری تقریبات، ضیافتوں، استقبالیوں اور Ballroom کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ اب تک دستیاب مستند ریکارڈ اسے مستقل رہائشی Guest House ثابت نہیں کرتے، اگرچہ یہاں برطانوی حکام اپنے مہمانوں کی میزبانی کرتے تھے۔ نومبر 1907ء میں اسے باقاعدہ پشاور میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تاکہ گندھارا تہذیب کے آثار محفوظ اور نمائش کے لیے پیش کیے جا سکیں ،،.  منظور حسین جوری
پشاور میوزیم کی عمارت کی مکمل تاریخی معلومات تعارف پشاور میوزیم پاکستان کے قدیم ترین عجائب گھروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف گندھارا تہذیب کے نادر آثار کا سب سے بڑا ذخیرہ رکھتا ہے بلکہ اس کی عمارت بھی برطانوی دور کے فنِ تعمیر کا ایک اہم نمونہ ہے۔ موجودہ عمارت ابتدا میں Victoria Memorial Hall کہلاتی تھی اور بعد میں اسے پشاور میوزیم کی حیثیت دی گئی۔ � Kp Archaeology +1 عمارت کب بنی؟ عمارت کی تعمیر 1906–1907ء میں ہوئی۔ اس کا افتتاح نومبر 1907ء میں ہوا۔ یہ عمارت ملکہ وکٹوریہ (Queen Victoria) کی یاد میں تعمیر کی گئی، اسی لیے اس کا نام Victoria Memorial Hall رکھا گیا۔ � Kp Archaeology +1 عمارت کس نے بنائی؟ یہ عمارت برطانوی حکومت کے دور میں تعمیر ہوئی۔ تعمیر کی مالی تفصیل یہ تھی: کل لاگت تقریباً 60,000 روپے۔ 45,000 روپے اُس وقت کے سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختونخوا) کے عوام نے چندے کی صورت میں فراہم کیے۔ 15,000 روپے برطانوی حکومت کے Archaeological Survey of India نے دیے۔ � Kp Archaeology عمارت کا طرزِ تعمیر یہ عمارت Indo-Saracenic طرزِ تعمیر کی عمدہ مثال ہے، جس میں: برطانوی نوآبادیاتی طرز مغل طرزِ تعمیر راجستھانی عناصر بدھ فنِ تعمیر کے اثرات شامل ہیں۔ نمایاں خصوصیات: دو منزلہ مرکزی ہال چار خوبصورت گنبد کشادہ محرابی برآمدے سرخ اینٹوں اور سفید پتھر کی آرائش بلند چھتیں اور قدرتی روشنی کا بہترین انتظام۔ � Jac QAU +1 میوزیم بننے سے پہلے اس عمارت کا استعمال یہ سوال سب سے زیادہ اہم ہے، اور اسی پر مختلف آراء بھی پائی جاتی ہیں۔ مستند تاریخی شواہد کیا کہتے ہیں؟ موجودہ تحقیقی اور سرکاری ریکارڈ اس بات پر متفق ہیں کہ: یہ عمارت ابتدا میں میوزیم کے لیے نہیں بنائی گئی تھی۔ 2025 میں شائع ہونے والی تحقیقی تحقیق، جو برطانوی آرکائیوز پر مبنی ہے، واضح کرتی ہے کہ عمارت کا اصل مقصد کچھ اور تھا اور بعد میں اسے میوزیم میں تبدیل کیا گیا۔ � Jac QAU اصل استعمال دستیاب شواہد کے مطابق Victoria Memorial Hall کو درج ذیل مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا: برطانوی گورنر کی سرکاری تقریبات سرکاری استقبالیے (Reception) ضیافتیں (Banquets) سماجی اجتماعات رقص کی تقریبات (Ballroom Functions) اعلیٰ سرکاری شخصیات اور معزز مہمانوں کے اعزاز میں منعقد ہونے والی تقریبات۔ � Associated Press of Pakistan +1 کیا یہ Guest House تھا؟ یہاں ایک اہم فرق ہے۔ اب تک دستیاب سرکاری تاریخی ریکارڈ میں اس عمارت کو باقاعدہ رہائشی Guest House قرار نہیں دیا گیا۔ البتہ: یہاں برطانوی حکام اپنے مہمانوں کے اعزاز میں تقریبات منعقد کرتے تھے۔ معزز مہمانوں کا استقبال کیا جاتا تھا۔ سرکاری ضیافتیں منعقد ہوتی تھیں۔ اس لیے اسے Reception Hall یا Ballroom کہنا تاریخی اعتبار سے زیادہ درست ہے، جبکہ اسے رہائشی مہمان خانہ کہنا مضبوط دستاویزی ثبوت سے ثابت نہیں ہوتا۔ � Associated Press of Pakistan +1 میوزیم میں تبدیلی جب گندھارا تہذیب کے آثار بڑی تعداد میں پشاور، تخت بھائی، شہ جی کی ڈھیری، سہری بہلول، جمال گڑھی اور دیگر مقامات سے دریافت ہوئے تو انہیں محفوظ رکھنے کے لیے ایک موزوں عمارت درکار تھی۔ اسی مقصد سے Victoria Memorial Hall کو عجائب گھر میں تبدیل کیا گیا، اور نومبر 1907ء میں یہاں آثارِ قدیمہ کی باقاعدہ نمائش شروع ہوئی۔ � Kp Archaeology بعد کی توسیعات 1969–1970ء: مشرقی اور مغربی جانب نئے ہال تعمیر کیے گئے۔ 1974–1975ء: ان ہالوں پر دوسری منزل تعمیر کی گئی۔ 2004–2005ء: جدید بلاک، نئی گیلریاں، کنزرویشن لیبارٹری، دفاتر اور دیگر سہولیات شامل کی گئیں۔ � Kp Archaeology +1 اہم تاریخی نتیجہ تاریخی دستاویزات کی روشنی میں درج ذیل باتیں اعتماد سے کہی جا سکتی ہیں: یہ عمارت 1906–1907ء میں تعمیر ہوئی۔ اس کا اصل نام Victoria Memorial Hall تھا۔ یہ ملکہ وکٹوریہ کی یادگار کے طور پر تعمیر کی گئی۔ ابتدا میں یہ سرکاری تقریبات، ضیافتوں، استقبالیوں اور Ballroom کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ اب تک دستیاب مستند ریکارڈ اسے مستقل رہائشی Guest House ثابت نہیں کرتے، اگرچہ یہاں برطانوی حکام اپنے مہمانوں کی میزبانی کرتے تھے۔ نومبر 1907ء میں اسے باقاعدہ پشاور میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تاکہ گندھارا تہذیب کے آثار محفوظ اور نمائش کے لیے پیش کیے جا سکیں ،،. منظور حسین جوری

About