@lostheart231: خصتی کے وقت جب یہ کہا جاتا ہے بابا فکر نہ کریں آج سے یہ ہماری بیٹی ہے تو ایک باپ اپنے آنسو چھپا کر اپنی سب سے قیمتی امانت ان کے حوالے کر دیتا ہے مگر افسوس کچھ گھروں میں یہ جملہ صرف رسم رہ جاتا ہے وقت گزرتے ہی وہی بیٹی غیر کہلانے لگتی ہے اس کی خاموشی کو قصور اس کے صبر کو کمزوری اور اس کے آنسوؤں کو ڈرامہ کہہ دیا جاتا ہے پھر ایک دن وہ بیٹی جو اپنے بابا کے گھر سے دعاؤں کی چادر اوڑھ کر نکلی تھی کسی کمرے کے کونے میں بیٹھ کر اپنی قسمت پر رو رہی ہوتی ہے اور اس کا بابا آج بھی یہی سمجھ رہا ہوتا ہے کہ میری بیٹی اپنے گھر میں خوش ہوگp